site
stats
عالمی خبریں

مانچسٹر خودکش حملہ آور کے والد اور چھوٹا بھائی لیبیا سے گرفتار

لندن : مانچسٹرخودکش حملہ آور کے والد رمضان عبیدی اور چھوٹے بھائی ہاشم کو لیبیا ملییشیا نے گرفتار کرلیا۔

برطانوی پولیس مانچسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے کے ‘نیٹ ورک’ کی تلاش میں ہے، اسی سلسلے میں خودکش حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کے والد رمضان اور چھوٹے بھائی ہاشم کو لیبیا میں ملیشیا نے گرفتار کرلیا ، اس کے بھائی پرتنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حملہ آور سلمان عابدی کے والد نے بیٹے کے کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلقات کو مسترد کردیا، ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا بے قصور ہے اور اس کا حملے سے کوئی تعلق نہیں، معصوم لوگوں کو مارنا ہمارا کام نہیں، میں نے 5 دن قبل ہی بیٹے سے فون پر بات کی تھی اور وہ ایک دم پرسکون اور نارمل تھا۔

سلمان عبیدی کے والد کا کہنا تھا کہ سلمان رمضان کا مہینہ گھروالوں کے ساتھ گزارنے کے لیے لیبیا آنے کی تیاریاں کررہا تھا، جب پولیس نے گرفتار کیا۔


مزید پڑھیں‌ : مانچسٹر حملہ: سلمان عابدی آخر ہے کون؟


دوسری جانب مانچسٹر دھماکے کے بعد برطانیہ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ برطانوی سیکیورٹی اداروں ان چھاپوں کے دوران مزید دھماکا خیز مواد ملا ہے ۔

برطانوی اخبار کا دعویٰ ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو مزید دھماکا خیز مواد ملا ہے، جسے برطانیہ میں مزید دھماکوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے ملنے والی ایک ڈیوائس کو کنٹرول دھماکے سے تباہ کر کے ضائع کر دیا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی نیٹ ورک ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں مزید دھماکے کر سکتا ہےاور اس کے لیے مزید بم بھی بنا سکتا ہے۔

مانچسٹرحملے کے متاثرین سے ا ظہاریکجہتی کے لئے برطانیہ میں مقامی وقت کے مطابق ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی جائے گی


مزید پڑھیں : برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہوسکتا ہے‘تھریسامے


یاد رہے کہ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ مانچسٹرحملے کے بعد برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہوسکتا ہے، رطانوی حکومت نے مزید دہشت گرد حملوں کی روک تھام کرنے کےلیے’آپریشن ٹیمپرر‘ شروع کردیا ہے، مانچسٹر کنسرٹ میں خودکش حملے کےبعد تمام اہم عمارتوں کی نگرانی کے لیے فوج تعینات کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو مانچسٹر کے برٹش ایرینا میں جاری امریکی گلوکارہ آریانہ گرانڈے کے کنسرٹ کے اختتام کے کچھ دیر بعد ہی ایک خوفناک خود کش دھماکا ہوا تھا جس میں 22 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے 22 ساہ سلمان عابدی کو خود کش حملہ آور قرار دیا تھا جو لیبیا سے تعلق رکھنے والے ایک گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور والدین معمرقذافی کے مخالف تھے، انیس سوچورانوےمیں ہجرت کرکےبرطانیہ آئے تھے، قذافی کی حکومت ختم ہونےکےبعد سلمان عابدی کے والدین دوہزارگیارہ میں واپس لیبیا چلے گئے تھے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top