اتوار, اپریل 12, 2026
اشتہار

منگھا رام ملکانی: ایک ادبی مؤرخ، نقّاد اور ڈرامہ نویس کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

اردو زبان کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت میں بھی علاقائی زبانوں کا ادب بھی تخلیق ہوتا رہا ہے جس میں نظم اور نثر کے حوالے سے کئی بڑے نام سامنے آتے ہیں‌ اور ان کی کتابیں ان زبانوں کا سرمایہ ہیں۔ یہ تذکرہ ہے منگھا رام ملکانی کا جو جدید سندھی نثری ادب کے معماروں میں‌ سے ایک تھے۔

سندھی زبان میں علمی و ادبی تحقیق کے شعبہ میں ان کی کتاب بعنوان سندھی نثر جی تاریخ کو تنقیدی شاہ کار تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج نوجوان نسل کے لیے منگھا رام ملکانی کا نام نامانوس بھی ہے اور وہ ان کے کارناموں سے شاید ہی واقف ہوں، لیکن ان کے علمی و ادبی کارنامے سندھی زبان کی تاریخ کا حصّہ ہیں۔ ملکانی صاحب کو مذکورہ کتاب پر 1969ء میں بھارت میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز دیا گیا تھا۔ منگھا رام ملکانی 1980ء میں آج ہی کے دن بمبئی میں وفات پا گئے تھے۔ انھیں سندھی زبان کے ایک اہم ادبی مؤرخ، نقاد، معلّم اور ڈرامہ نویس کے طور پر شہرت حاصل ہوئی تھی۔

تقسیم ہند سے قبل ملکانی صاحب نے ڈی جے کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرار اور پھر جے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ملکانی صاحب کی مذکورہ کتاب میں سندھی افسانے، ناول، ڈرامے اور مضمون نویسی کے ابتدائی دور سے لے کر تقسیمِ ہند تک ہونے والی ترقّی اور ہر صنفِ ادب کی ترقّی کے ساتھ ان کی جداگانہ خصوصیت کو بھی بیان کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ان کی ایک نہایت مستند اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے۔

پروفیسر منگھا رام ملکانی 24 دسمبر 1896ء کو سندھ میں برطانوی دور کے حیدر آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ڈی جے کالج کراچی سے بی اے (آنرز) کی سند حاصل کی۔ ملازمت کا آغاز ڈی جے کالج سے انگریزی کے لیکچرار کے طور پر کیا، پھر اسی کالج میں فیلو مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے شہر بمبئی منتقل ہو گئے اور وہاں کالج میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز ڈراما نگاری سے ہوا۔ یہ شروع ہی سے ان کی دل چسپی کا میدان تھا۔ اس صنف میں‌ انھوں نے انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں سے متعدد ڈرامے سندھی زبان میں ترجمہ کرنے کے علاوہ ادب کو طبع زاد ڈرامے بھی دیے۔ منگھا رام ملکانی کے معروف ڈراموں میں اکیلی دل (اکیلا دل)، ٹی پارٹی، پریت جی پریت، لیڈیز کلب، سمندر جی گجگار (سمندر کی گرج)، کوڑو کلنک (جھوٹا کلنک)، دل ائین دماغ (دل اور دماغ)، کنھ جی خطا؟ (کس کی خطا؟) و دیگر شامل ہیں۔

وہ ڈرامہ اور ناول نگاری کے بعد تحقیق و تنقید کی طرف راغب ہوئے تھے۔ ان کے تحریر کردہ مضامین سندھی زبان میں شایع ہونے والے اخبارات اور جرائد کی زینت بنتے رہے اور منگھا رام کو ادبی حلقوں اور قارئین میں شہرت ملی۔ اسی دور میں انھوں نے سندھی نثر اور ادب کا احاطہ کرنے کی غرض سے اپنی مشہور کتاب تصنیف کی جو آج بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں