کراچی (12 مارچ 2026): صدر انٹرنیشنل مارکیٹ کے کپڑے کے ایک تاجر نے منگھوپیر اور سچل پولیس پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے بیٹے طارق شاہد کو پولیس بار بار ہراساں کر رہی ہے۔
کراچی میں صدر انٹرنیشل مارکیٹ کے تاجر نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگھوپیر اور سچل پولیس ان کے سمدھی کے کہنے پر ان کے بیٹے کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے بار بار ہراساں کر رہی ہے۔
تاجر نے کہا ’’میرے بیٹے کا نام طارق شاہد ہے جسے بار بار پولیس ہراساں کر رہی ہے۔‘‘ تاجر نے دعویٰ کیا ’’میرے سمدھی کے کہنے پر پولیس بار بار میرے بیٹے جھوٹے کیس میں پھنسا رہی ہے۔‘‘
انھوں نے کہا ’’صدر انٹرنیشل مارکیٹ میں میرا اور بیٹے کا کپڑے کا کاروبار ہے، پہلے 27 جنوری کو منگھوپیر پولیس جھوٹے کیس میں بیٹے کو گھر سے لے گئی، کئی گھنٹے تھانے میں بٹھایا اور پھر غلط فہمی بول کر چھوڑ دیا، سچل تھانے میں 27 فروری کو پھر ایک جھوٹا مقدمہ درج ہوا۔‘‘
کراچی میں ’شیطانی مجسمے‘ نے سنسنی پھیلا دی
تاجر کا کہنا تھا کہ مدعی نے مقدمہ درج کروا کر میرے بیٹے کو نامزد کیا کہ اس نے گھر میں چوری کی ہے، لیکن ہم نہ اس شخص کو جانتے ہیں نہ کبھی اس علاقے گئے، پولیس اس تاریخ کی فوٹیج لائیو لوکیشنز نکلوا کر دیکھے۔
انھوں نے کہا ’’کل بیٹے کو سچل کے تفتیشی پولیس والے آئے اور لے گئے، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی انصاف دلوائیں۔‘‘ ادھر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جس وقت مقدمہ درج ہوا اُس وقت طفیل بھٹو ایس ایچ او سچل تھا، جسے کئی شکایات پر 9 مارچ کو ہٹا دیا گیا تھا۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


