The news is by your side.

Advertisement

کمزور قانون کراچی کے ماحول کے لیے بڑا خطرہ

کراچی کے ساحل پر تیمر (مینگروز) کے جنگلات شہر کے لیے آکسیجن پلانٹس کے نعم البدل ہیں، لیکن اب تیمر کے جنگلات کو خود بقا کی فکر لاحق ہے، تیمر کے جنگلات میں کمی کی مختلف وجوہ ہیں، ٹمبر مافیا کے ہاتھوں جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور سمندر میں براہ راست گرنے والا کارخانوں کا فضلہ تیمر کے جنگلات کو ختم کرنے کے ساتھ دیگر ماحولیاتی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔

تیمر کے جنگلات پاکستان کے جنوب میں سندھ اور بلوچستان کی تقریباً 1046 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر محیط ہیں، انچارج کوسٹل میڈیا سینٹر کمال شاہ جن کا تعلق ساحلی پٹی پر واقع قریبی گاؤں سے ہے، نے بتایا کہ کراچی شہر کے لیے تیمر کے جنگلات زندگی اور موت کا درجہ رکھتے ہیں، اگر ان جنگلات کو بچایا گیا تو شہر میں زندگی رواں رہے گی نہیں تو پھر فیکٹریوں سے خارج ہونے والی زہریلی گیس اس شہر کے باسیوں کی زندگیاں نگل جائے گی۔

کمال شاہ نے بتایا کہ وہ 25 سال سے ان جنگلات کو کٹتے دیکھ رہے ہیں، تیمر کا ایک درخت 20 سے 22 سال میں بڑا ہو جاتا ہے، لیکن ٹمبر مافیا ان درختوں کی بے دریغ کٹائی کر کے ان کے جنگلات تباہ کر رہے ہیں، دوسری جانب شہر کے گندے نالے بھی سمندر میں جاگرتے ہیں جس کی وجہ سے آبی آلودگی پیدا ہو رہی ہے، یہ نہ صرف تیمر کے جنگلات بلکہ آبی حیات کی بقا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہر قانون زبیر احمد ابڑو ماحولیات سے متعلق بہت سے کیسز میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں پیش ہو رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں شروع دن سے ماحول پر کسی حکومت نے توجہ نہیں دی، 1997 میں انوائرنمنٹل پروٹیکشن قانون بنایا گیا، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات ملے اور ہر صوبے میں انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کام کر رہی ہے، لیکن ماحول کی تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کمزور ہیں، ان قوانین پر عمل درآمد بھی نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے لوگ بے خوف ہو کر جنگلات کو تباہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمہ جنگلات کارروائی کر بھی لے، تو ملزمان آسانی کے ساتھ چھوٹ جاتے ہیں، بیر ابڑو ایڈوکیٹ نے بتایا کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب تک جتنے بھی ٹمبر مافیا کے خلاف مقدمات درج ہوئے ہیں ان میں کسی کو سزا نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی میں ملوث ملزمان پر 5 ملین تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے لیکن جو جرمانہ عائد کیا جاتا ہے وہ بہت کم ہوتا ہے۔

ماہر قانون زبیر ابڑو نے بتایا کہ گزشتہ 6 مہینے میں ٹربیونل میں کوئی شکایت درج ہی نہیں ہوئی، ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن ایسا ہے نہیں، ماحول کو بہت خطرات لاحق ہیں لیکن یہاں ماحول پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتا، سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہائیکورٹ میں گرین بنچ سے متعلق کا کہا تھا، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں گرین بنچ بنے ہیں لیکن بدقسمتی سے سندھ اور بلوچستان میں کوئی گرین بنچ اب تک نہیں بنا۔

محکمہ جنگلات کے فارسٹ آفیسر محمد خان جمالی نے بتایا کہ وہ اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں کہ تیمر کے درختوں کی غیر قانونی کٹائی کو روکے، سمندر میں ہماری ٹیمیں گشت کرتی ہیں، اور جہاں پر بھی کوئی جنگلات کو نقصان پہنچانے والے نظر آتے ہیں ان کے قانونی خلاف کارروائی کر کے ایف آئی آر درج کراتے ہیں۔ محمد خان جمالی نے بتایا کہ خلاف وزری کرنے والوں کو ہم گرفتار کرتے ہیں لیکن دو دن بعد عدالت ان کو ضمانت پر رہا کر دیتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ خیبر پختون خوا میں محکمہ جنگلات کی اپنا فورس ہے، یہاں ایسا نہیں ہے ہمارے پاس اپنی فورس نہیں ہے اس وجہ سے ہمیں مشکلات درپیش آتی ہیں، ہمیں لوکل کمیونٹی کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔

انتظامی عملے کی کمی سے متعلق انچارج کوسٹل میڈیا سینٹر کمال شاہ نے بتایا کہ 129 کلو میٹر علاقے پر 4 انسپکٹر تعینات ہیں، یہ کیسے جنگلات کا تحفظ کر سکیں گے، فورس کی تعداد اگر بڑھائی جائے تو بہتری کی امید ہے، ٹمبر مافیا بہت طاقت ور ہے، یہ راستہ روکنے والوں کو نہیں چھوڑتا، مقامی لوگ چاہیں بھی تو مافیا کے ڈر سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

2011 میں ٹمبر مافیا نے مزاحمت پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے 2 اہل کاروں کو قتل کیا تھا، 40 سالہ عبدالغنی اور ابوبکر کو اغواکاروں نے پہلے اغوا کیا اور پھر جان سے مار دیا، اس کے بعد علاقے میں خوف پھیل گیا تھا اور علاقہ مکین ٹمبر مافیا کے خلاف آواز اٹھانے سے گھبرانے لگے۔

کمال شاہ نے بتایا کہ اب لوگ جنگلات کی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، مقامی لوگوں کو تیمر کے جنگلات کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہے۔

انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات میں 1966 کی ایک اسٹڈی کے مطابق انڈس ڈیلٹا پر تیمر کے جنگلات 2 لاکھ 49 ہزار 486 ہیکٹر کے رقبے پر پھیلے تھے، آئی سی یو این رپورٹ کے مطابق کے 1980 کے ابتدا میں تیمر کے جنگلات میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا اور جنگلات کا رقبہ 2 لاکھ 83 ہزار ہیکٹر تک پھیل گیا لیکن 1990 کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں اور سمندر کے ساحل پر موجود آبادی کو سونامی اور دیگر قدرتی آفات سے محفوظ کرنے والے تیمر کے جنگلات کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی، تیمر کے جنگلات جو 1980 میں 2 لاکھ 83 ہیکٹر رقبے پر پھیلے تھے کم ہوکر 1990 میں 1 لاکھ 60 ہزار ہیکٹر تک آگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں