The news is by your side.

Advertisement

پدماوت کے بعد فلم ’ مانی کارنیکا، کوئین آف جھانسی‘ کو بھی دھمکیوں کا سامنا

ہندوانتہا پسندی نے بھارت کے ماتھے سے سیکولر ریاست کا جھوٹا جھومر اتار پھینکا ہے اور حب الوطنی کے نام پر بھارتی جنونیت کو ہوا دینے والی بالی وڈ اب خود انتہا پسندوں کے شکنجے میں آچکی ہے جس کا نظارہ پدماوت کی ریلیز کے موقع پربھی دیکھا گیا.

بھارتی انتہا پسندی کا یہ سلسلہ جہاں پدماوت میں دپیکا کے لیے مسئل کھڑا کرتا رہا وہیں اب ایک اور ہیروئن کنگنا رناوت بھی اُن کے نشانے پر ہیں اور فلم مانی کارنیکا: کوئین آف جھانسی کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اس فلم کے ریلیزہونے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں.

انتہا پسندوں نے راجھستان کی حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہیروئن کنگنا رناوت کی فلم کارنیکا کوئین آف جھانسی کی شوٹنگ پر پابندی عائد کی جائے اور فلم ساز تین دن کے اندر وضاحت پیش کریں بصورت دیگر فلم کی کاسٹ کو خطرناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا.


پدماوت: تمام رکاوٹیں عبور کرکے فلم 100 کروڑ کلب میں شامل


بھارتی انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ کنگنا رناوت کی فلم ’مانی کارنیکا‘ میں تاریخ کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے جس سے بھارت کے تاریخی کرداروں کی تضحیک کا عنصر اجاگر ہوتا ہے.

بھارتی انتہا پسندوں کا مزید کہنا تھا کہ فلم کی کہانی میں ’رانی لکشمی بائی‘ کو انگریز افسر کی محبوبہ دکھایا گیا ہے جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروع ہوئے ہیں اور یہ حقیقیت کے برخلاف بھی ہے۔

یاد رہے کہ فلم فلم مانی کارنیکا، کوئین آف جھانسی کی شوٹنگ گزشتہ سال سے جاری ہے جس میں کنگنا رناوت ’رانی لکشمی بائی‘ کے روپ میں نظر آئیں گی جب کہ فلم بھی رواں سال اپریل میں ریلیز میں ہو گی.


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں