ممبئی : نیٹ فلکس پر بالی ووڈ کے نامور اداکار منوج باجپائی کی آنے والی فلم ریلیز سے قبل ہی شدید تنقید کی زد میں آگئی، جس پر اداکار نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کردیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹ فلکس انڈیا کی آنے والی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ (رشوت خور پنڈت) میں منوج باجپائی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، فلم نے ریلیز سے قبل ہی ہنگامہ کھڑا کردیا۔
ممبئی میں ایک ایونٹ کے دوران اس کا ٹیزر جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد فلم سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا شکار ہوگئی ہے۔ تاہم اب اداکار منوج باجپائی نے ناقدین کو مدلل جواب دے دیا۔
اس حوالے سے فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای ) نے فلم کے ٹائٹل کو توہین آمیز قرار دے کر فوری طور پر اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اس نام سے نہ صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔
گزشتہ روز ممبئی میں ہونے والی ایک تقریب میں نیٹ فلکس پر آنے والی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ (رشوت خور پنڈت) کا ٹیزر پیش کیا گیا جس میں منوج باجپائی کو ایک بدعنوان پولیس افسر کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
فلم میں اس کردار کا نام اجے ڈکشت بتایا گیا ہے مگر اسے عرفِ عام میں ’’پنڈت‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے جب کہ فلم کا نام گھوس خور پنڈت ہے۔
فلم کے عنوان نے شائقین میں سخت ردِعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کئی صارفین اسے غیر حساس اور توہین آمیز قرار دے رہے ہیں۔
کئی ناظرین نے لفظ ’’پنڈت‘‘ کے استعمال پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے بدعنوانی کو ایک مخصوص برادری سے جوڑا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مین اسٹریم انٹرٹینمنٹ میں ذات پات کی نمائندگی پر ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر کی گئی متعدد پوسٹس میں نیٹ فلکس اور فلم سازوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر یہی لفظ کسی اور ذات یا برادری کے لیے استعمال کیا جاتا تو شدید ردعمل سامنے آتا۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے تو فلم کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا جبکہ کچھ نے فوری طور پر نام تبدیل کرنے کا مطالبہ اٹھایا۔
یاد رہے کہ فلم کے ہدایت کار نیرج پانڈے ہیں، جو اس سے قبل نیٹ فلکس کے لیے ’’خاکی : دی بہار چیپٹر‘‘ جیسی کامیاب سیریز بنا چکے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



