The news is by your side.

Advertisement

سابق اولمپئن منصور احمد سپرد خاک

جنازے میں کسی بھی حکومتی شخصیت نے شرکت نہیں کی

کراچی: سابق اولمپئن اور پاکستان کو ورلڈکپ فاتح بنانے والے عظیم سابق گول کیپر منصور احمد کو کراچی کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں انتقال کرجانے والے منصور احمد کا نماز جنازہ ڈیفنس کے علاقے میں واقع سلطان مسجد میں ادا کیا گیا جس میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز سینئر و دیگر کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

نماز جنازہ میں اولمپئن صلاح الدین، کامران اشرف، حیدر حسین، جلال الدین، سلیم جعفر اور اقبال محمد علی سمیت دیگر کھلاڑیوں اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

افسوسناک امر یہ تھا کہ صوبائی حکومت کے کسی بھی حکومتی عہدیدار، وزیر نے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی، اس ضمن میں اولمپئن صلاح الدین کا کہناتھا منصور احمد جیسے عظیم لوگ عزت کے مستحق تھے مگر وہ اس سے محروم رہے۔

مزید پڑھیں: اولمپئن منصور احمد کے انتقال پر آرمی چیف کی تعزیت

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصور احمد جیسے باصلاحیت کھلاڑی کا ہمارے درمیان سے یوں چلے جانا افسوناک ہے، اس شخص نے قوم کو بہت سی خوشیاں دیں مگر ہم ہیرے کی قدر نہیں کرسکے۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ’افسوس اس بات کا ہے میں سابق اولمپئن کے لیے کچھ نہ کرسکا مگر اب ضرور سوچوں گا کہ اس کا ازالہ کیسے کیا جائے۔

واضح رہے کہ این آئی سی وی ڈی میں زیر علاج قومی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر منصور احمد گزشتہ روز کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

ایک روز قبل منصور احمد کی اچانک طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل کیا اور جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں: شاداب خان نے اپنی نصف سنچری مرحوم منصور احمد کے نام کردی

خیال رہے کہ سنہ 1994 کے ہاکی ورلڈ کپ فائنل میں منصور احمد نے پینلٹی اسٹروک پر گول روک کر پاکستان کو  عالمی چیمپئن کا اعزاز  دلوایا تھا، انہوں نے دل کی تکلیف کے بعد بھارت جاکر علاج جانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔

قبل ازیں منصور احمد کا جون 2016 میں آپریشن ہوا تھا، جس میں ان کے دل میں پیس میکر لگا یا گیا تھا اور پھر وہ عارضی طور پر صحت یاب ہوگئے تھے۔ البتہ 2018 میں ان کی صحت تیزی سے بگڑی اور  اپریل کے اوائل میں یہ رپورٹ سامنے آئی کہ ان کے دل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت محض 20 فیصد باقی رہ گئی۔

لیجنڈ گول کیپر کے کیریر پر ایک نظر

آپ نے 1986 سے 2000 تک قومی ہاکی ٹیم میں بحیثیت گول کیپر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اپنے کیریئر میں منصوراحمد نے 338 عالمی میچز کھیلے اور ایک وقت میں منصور احمد کو ایشیاء کے نمبر ون گول کیپر ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا، اولمپکس کھیلتے ہوئے آپ نے متعدد سلور اور گولڈ میڈلز اپنے نام کئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں