The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کو اسلحہ فروخت نہ کرنے کے باوجود جرمن اسلحے کی برآمدات میں اضافہ

بدلن: سعودی عرب کو جرمن ساخت کے اسلحے کی فروخت پر پابندی کے باوجود دنیا بھر میں جرمن اسلحے کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزامات ریاض حکومت پر عاید کیے جارہے تھے، جس کے پیش نظر برلن حکام نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روک دی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ انکشاف کیا ہے کہ جزوی طور پر سعودی عرب کو جرمنی کی جانب سے اسلحے کی فروخت جاری ہے، جرمن اسلحے کی خریداروں میں ہنگری پہلے نمبر پر آگیا۔

جرمن حکومت نے 2019ء کی پہلی ششماہی میں اربوں یورو کے اسلحے کی برآمدات کی منظوری دی ہے، حزب اختلاف کی گرین پارٹی نے کہا ہے کہ ان معاہدوں کی مالیت 5.3 ارب بنتی ہے۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران اس رجحان میں مسلسل کمی آ رہی تھی اور 2018ء میں یہ شرح 4.8 ارب یورو رہی تھی۔

جرمن عسکری سازو سامان کے اہم ترین خریداروں میں پہلے نمبر پر ہنگری پھر مصر اور جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے، جرمنی ہنگری کو اس برس 1.76 ارب یورو کا اسلحہ بیچے گا۔

سعودی عرب کو جرمن اسلحہ خریدنے کی اجازت مل گئی

واضح رہے کہ گزشتہ برس دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ریاض حکومت کے ناقد سعودی صحافی اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب پر اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ شروع میں جرمنی نے سعودی عرب کو جرمن ساختہ اسلحہ جات کی ترسیل پر یہ پابندی دو ماہ کے لیے لگائی تھی، جس کے بعد وفاقی جرمن حکومت نے مزید توسیع کر دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں