The news is by your side.

Advertisement

ن لیگ کا حال ایم کیو ایم سے مختلف نہیں، کئی لیگی رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں: فواد چوہدری

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا حال ایم کیو ایم سے مختلف نہیں، ن لیگ سے اتنے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں کہ ان کے لیے جگہ بنانا مشکل ہو رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ روزانہ مسلم لیگ ن سے لوگ ٹوٹ رہے ہیں، پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑے گا، ن لیگ کے بیانیے کی اپنی ہی جماعت میں کوئی مقبولیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ نے سنجیدہ معاملہ اٹھا دیا ہے، جنوبی پنجاب سے 8 قانون سازوں نے نواز گروپ کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، نون لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اسی طرح لوگ انہیں چھوڑ کر اپنی راہیں جدا کر لیں گے۔

ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اگر الزام تراشیاں کرنی ہیں تو پہلے استعفیٰ دیں، پی ٹی آئی کسی آزاد امیدوار یا جماعت کی حمایت نہیں کرے گی، تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے الیکشن میں کسی سے اتحاد نہیں کریں گے۔

عمران خان آپ کی طرح ڈاکو نہیں، ن لیگ تقسیم ہوچکی ہے: فواد چوہدری کی دھواں دار پریس کانفرنس

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، ملک کو گورننس ماڈل بنانے کیلئے نئے صوبے ضروری ہیں، ملکی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے، لیگی حکومت کی جانب سے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے میں تاخیر کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے صاف پانی کا سوموٹو نوٹس لیا، ازخود نوٹس کا معلوم ہوا تو سابق افسران کے اوپر اینٹی کرپشن کا کیس بنا دیا اور 56 کمپنیاں بھی بنا دی گئیں، ایک کمپنی دوسری کو ٹھیکے دیتی رہتی ہے، 4 ارب میں جب شوکت خانم تعمیر ہو سکتا ہے تو 70 ارب میں کیا نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے نواز شریف کو مافیا قرار دیتے ہوئے نا اہل کیا ہے: جہانگیر ترین اور فواد چوہدری کا ردعمل

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کے بچوں نے ملک کو ماڈل کرپشن اسٹیٹ بنایا، انہی کی کرپشن کی وجہ سے ملک کو بحران کا سامنا ہے، لگ نہیں رہا ن لیگ جولائی تک بھی اپنی مدت پوری کر سکے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں