کراچی : پیپلز پارٹی کے منظور وسان نے سابق ایڈیشنل آئی جی کو 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس دیتے ہوئے فوری معافی کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیرِ داخلہ منظور وسان نے سابق ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔
یہ نوٹس منظور وسان پر سوشل میڈیا انٹرویو کے دوران لگائے گئے رشوت ستانی کے الزامات پر بیرسٹر مصطفیٰ مہیسر کے توسط سے ارسال کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بطور وزیرِ داخلہ سندھ رشوت لینے کے تمام الزامات من گھڑت، بے بنیاد اور حقیقت سے دور ہیں۔ ان جھوٹے الزامات کے ذریعے منظور وسان کی نصف صدی پر محیط سیاسی جدوجہد، ساکھ اور عوامی وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔
سابق ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان من گھڑت الزامات پر فوری طور پر علانیہ معافی مانگیں۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر 14 روز کے اندر معذرت نہ کی گئی تو پیکا اور ہتکِ عزت کے قوانین کے تحت باقاعدہ قانونی کارروائی اور مقدمات کا آغاز کیا جائے گا۔
منظور وسان کے وکیل کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلا انٹرویو محض کردار کشی پر مبنی ہے جس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔


