The news is by your side.

Advertisement

ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ 1984 سے جاری ہے، منظور وسان

کراچی: صوبائی وزیر صنعت و تجارت سندھ منظور حسین وسان نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف ہرزاسرائی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ1984 سے جاری ہے کہ جب  مزار قائد پر پاکستان کا پرچم بھی جلایا گیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی سائٹ ایسوسی ایشن کے دورہ اور صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت منظور وسان کا کہنا تھا کہ جب تک کراچی کے میئر جیل سے رہا نہیں ہوجاتے اُس وقت تک ڈپٹی میئر بطور قائم مقام میئر رہیں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ ’’کراچی پاکستان کا معاشی حب اور منی پاکستان ہے صنعتکاروں کو ماضی میں سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا تھا پولیس نے رینجرز کے ساتھ تعاون کر کے امن کو بحال کیا ہےجس کے بعد بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔

پڑھیں:   سندھ میں ہماری کارکردگی پر 2018پیپلز پارٹی کا سال ہوگا، منظور وسان

منظور وسان کا کہنا تھا کہ کراچی کو پانی گیس اور دیگر بنیادی وسائل کی منصافانہ تقسیم کے لیے کوشش جاری ہیں اور سائٹ ایریا کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ایک کروڑ روپے کا خصوصی گرانٹ جاری کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کو قائم کر کے اس کو ملک کا منفرد شہر بھی بنایا جاسکتا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے دورے پر خواب کے بجائے دعویٰ کرتے ہوئے منظور وسان نے کہا کہ ’’ایم کیو ایم پاکستان ہمارے ساتھ ہے اور وسیم اختر جب تک جیل میں ہیں ڈپٹی مئیر ارشد وہرہ قائم مقام میئر کے فرائض سرانجام دیں گے‘‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’مارچ کا موسم نہیں تاہم کچھ جماعتوں کی جانب سے شروع کیے جانے والے دھرنے حکومت کے لیے مشکل پیدا کرسکتے ہیں‘‘۔

مزید پڑھیں:  صوبائی وزیر منظور وسان کا کراچی میں سائٹ لمیٹیڈدفتر پر چھاپہ

اشتعال انگیز تقریر کے حوالے سے مظور وسان کا کہنا تھا کہ ’’ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کوئی نہیں بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ 1984 سے جاری ہے جب مزار قائد پر پاکستانی پرچم نذر آتش کیا گیا اور ملک کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے تاہم اب کی بار بیورو کریسی اور سیاسی قیادت مشترکہ طور پر فیصلہ کرچکی ہے کہ اب اس طرز کے نعرے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے‘‘۔ وزیر صنعت کا کہنا تھا کہ ’’صوبے اور ملک کے مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر چلنا ضروری ہے۔

اس موقع پر منظور وسان نے سائٹ ایریا غنی چورنگی کے قریب صفائی مہم کا افتتاح کیا اور علاقے کا دورہ کر کے انتظامیہ کو کچرا فوری طور پر اٹھانے کی ہدایت کی تاہم انہوں نے صنعتکاروں سے بھی اپیل کی کہ ’’ہر انڈسٹری کے باہر کم از کم 20 درخت لگائے جائیں تاکہ آلودگی پر قابو پایا جاسکے اور صفائی کے معاملات بھی بہتر ہوں‘‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں