The news is by your side.

Advertisement

ملک بھر کے ڈاکٹروں سے طبی مشورہ اب ایک کلک کی دوری پر

کراچی: انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں پاکستانی نوجوانوں کو بنائی گئی ایپ ’مرہم‘ نے ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ’آن لائن کنسلٹیشن‘ کا آغاز کردیا ہے ، جس کے ذریعے ملک کے دو ردراز علاقوں میں رہنے والے بھی بڑے اسپتالوں کے ڈاکٹروں سے مستفید ہوسکیں گے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کئی مریض آگاہی اور ڈاکٹروں تک رسائی نہ ہونے کے سبب بعض ایسی بیماریوں میں بھی زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں جن کاعلاج اگر بروقت کر لیا جائے تووہ اس قدرسنگین نہیں ہوتیں۔ گلی کوچوں میں بیٹھے عطائی ڈاکٹر بھی معاشرے کی تکلیف بڑھانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے میں پیش پیش ہیں۔

شہریوں کے انہی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’مرہم‘ کے نام سے ایک مفت آن لائن کمیونٹی اور موبائل ایپ اب سے دو سال قبل تشکیل دی گئی تھی جس کے ذریعے ملک بھر کے قابل اور نامور ڈاکٹر سے گھر بیٹھے موبائل فون کے ذریعے ڈاکٹروں سے اپائنٹمنٹ بھی لیا جاسکتا تھا۔یہی نہیں بلکہ اگر مریض کسی بیماری کے سلسلے میں ماہر ڈاکٹر کی تلاش میں سرگرداں ہیں تو مرہم کی موبائل ایپ کے ذریعےمحض بیماری کے نام سے ہی آپ اپنے قریبی علاقے میں اس مخصوص مرض کے ماہر کو تلاش کرسکتے ہیں اور ان کا اپائنٹمنٹ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ’مرہم‘ نے آن لائن کنسلٹیشن ‘ کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے مریض گھر بیٹھے قابل معالجین سے بذریعہ فون اور بذریعہ ویڈیو کال رابطہ کرکے اپنی بیماری سے متعلق مشورہ لے سکیں گے ، اس سہولت سے سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کو ہوگا جو ملک کے دور دراز یا پھر دیہی علاقوں میں مقیم ہیں اور کسی بھی مرض کے عام سے معالج تک رسائی کے لیے بھی انہیں شہر آنا پڑتا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے وہ گھر بیٹھے قابل اور نامور معالجین تک رسائی حاصل کرکے بروقت طبی معاونت حاصل کرسکیں گے۔

اس سروس کا مقصد ہمدردی ،احساس اورصحت کی سہلوت کو عام کر کے لوگوں کی زندگی میں مثبت اثرات مرتب کرنا ہے۔مریض ویب سائٹ پر اپنی تفصیلات ڈال کر تعلیم یافتہ اور مستند ڈاکٹر سے فون کال یا وڈیو کال کر سکتے ہیں۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ مریض کی تفضیلات کی رازداری کا خیال رکھا جائے گا۔

مرہم اس کام کے لیے کسی قسم کے کوئی چارجز نہیں لیتی، یہ ایپ اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کے لیے موجود ہے اور مرہم کی ویب سائٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں