تیل کی تجارت کے لیے سمندروں کی سیکیورٹی ضروری ہے -
The news is by your side.

Advertisement

تیل کی تجارت کے لیے سمندروں کی سیکیورٹی ضروری ہے

کمانڈر کراچی وائس ایڈ مرل آصف خالق کا میری ٹائم انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب

کراچی: پاک بحریہ کی میزبان میں چھٹی کثیر الاقوامی مشق امن کاآج تیسرا دن ہے ، اسی سلسلے میں کمانڈر کراچی وائس ایڈ مرل آصف خالق نے میری ٹائم انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں امن مشقوں کےسلسلے میں منعقدہ میری ٹائم انٹرنیشنل کانفرنس جاری ہے، اس سلسلے میں دنیا بھر سے نیول حکام پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مختلف یونی ورسٹیوں کے طالب علم بھی کانفرنس مین شرکت کررہے ہیں ۔گزشتہ روز صدر مملکت نے اس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا تھا۔

اس موقع پر وائس ایڈمرل آصف خالق کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ کو بحرِ ہند میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے، یہ دنیا کاتیسرا بڑا سمندر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی 60 فیصد تجارت سمندر سے ہوتی ہے۔ جس کے لیے سیکیورٹی ضروری ہے۔بحر ہند میں دہشت گردی ،اسمگلنگ سمیت سمندری ماحولیاتی تبدیلی کا بھی سامنا ہے جبکہ بحری قذاقوں کے حملوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات اسمگلنگ سمیت چھوٹے ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر کافی قابو پایا ہے مگر دنیا کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کمانڈر کراچی کا کہنا ہے کہ میری ٹائم سیکیورٹی ریڈار سسٹم کی مدد سے جرائم کی روک تھام کے لیے کوششیں کررہی ہیں جبکہ آبی آلودگی کی روک تھام کےلیے بھی کام کررہے ہیں۔پاکستان نیوی جرائم کی روک تھام کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا میں ہونے والی مشقوں میں 151 ممالک نے شرکت کی۔ پاکستان ان مشقوں میں دوسرے نمبر پر رہا۔ پاکستان نیوی نے ہمیشہ قدرتی آفات میں دنیا بھر میں ریسیکو کے عمل میں حصہ لیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا دورہ

دوسری جانب ترجمان پاک بحریہ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی مشقوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے لیے اس شاندار ایونٹ کے انعقاد پر پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔

چیف منسٹر سندھ کا کہنا تھا کہ امن مشق عالمی سطح پر امن کے فروغ اور پاکستان کے بہترین تاثر کو اجاگر کرنے کے لیے پاک بحریہ کا ایک اہم قدم ہے۔

صدرِ پاکستان کا افتتاحی تقریب سے خطاب

گزشتہ روز صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ بلیو اکانومی اور بحری وسائل کے موثر استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امر پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحرہنددنیا بھر کے لئے خوراک، میری ٹائم نقل وحمل اور توانائی کی سپلائی کا اہم راستہ ہے اور اس خطے میں موجود بڑی قوتوں کی یہاں موجودگی موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔

صدر پاکستان نے پاک بحریہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن2019 کی صورت میں خطے کی اور عالمی بحری قوتوں کے ساتھ مشترکہ مشقیں عالمی امن اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے عزم کی مظہر ہیں۔

پاکستان خطے کا اہم ملک ہونے کے حیثیت سے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کی عوام کے لئے امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کے مشترکہ مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں