site
stats
عالمی خبریں

پاکستان کو فوجی امداد نہ دینے کا فیصلہ امریکی وزیرخارجہ کی مشاورت کے بعد کیا،مارک ٹونر

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان کا کہنا ہے کہ پیٹاگون نے پاکستان کو فوجی امداد جاری نہ کرنے کا فیصلہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے مشاورت کے بعد کیا.

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران مارک ٹونر کا کہنا تھاکہ پاکستان کو فوجی امداد جاری نہ کرنے کے فیصلے پر ان کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،ایک سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کےخلاف کامیابیاں حاصل کیں اور کئی دہشت زدہ علاقوں میں حکومت کی رٹ بحال کی ہے.

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں موجود ہیں جنہیں ختم کرنے کےلیے پاکستان کو مزید اقدامات کے ساتھ تمام دہشت گرد گروہوں کےخلاف بلا تفریق کاروائی کرنا ہوگی،تاہم افغان سرحد پر اب بھی کئی دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں جو افغانستان میں پر تشدد کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں.

مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ امریکا انسداد دہشت گردی کےخلاف کاروائیوں میں پاکستان اور بھارت میں تعاون دیکھنا چاہتا ہے،دہشت گردی پاکستان اور بھارت کےلیے مشترکہ چیلنج ہے.

ترکی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ ترکی نے فتح اللہ گولن کی باضابطہ حوالگی کامطالبہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے ترکی کی جانب سے دی گئی دستاویزات کو تفصیلی جائزہ لیا جارہا ہے،دستاویزات اور الزامات کی مکمل جانچ کے بعد گولن کی ترکی کو حوالگی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا.

*امریکا نے پاکستان کی 30کروڑ ڈالرکی امداد روک دی

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکا نے پاکستان کی تیس کروڑ ڈالرکی امداد روک دی،پینٹاگون نے امداد کے لئے سرٹیفیکیٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا.

واضح رہے کہ سال 2015 میں کانگریس نے پاکستان کو امداد جاری کرنے سے پہلے ایک شرط رکھی تھی کہ جب امریکی سیکریٹری دفاع حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے مطمئن ہوں اور اس کا سرٹیفیکیٹ دیں گے،صرف اسی صورت میں پاکستان کو امداد دی جائے گئی.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top