The news is by your side.

Advertisement

مارک زکربرگ کا سیاسی اشتہارات کی اجازت دینے پر فیس بُک کی پالیسی کا دفاع

واشنگٹن : مارک زکربرگ نے جاری بیان میں کہا کہ ضروری ہے لوگ خود دیکھیں سیاستدان کیا کہہ رہے ہیں تاکہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک کو سیاستدانوں کی جانب سے اشتہارات کی پالیسی کے حوالے سے مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے مگر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سیاسی اشتہارات پر پابندی نہ لگانے کا کہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سے کی گئی گفتگو میں مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ سیاستدانوں کے بیانات پر لوگوں کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔

بانی فیس بُک کا کہنا تھا کہ میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں، یہ بہت ضروری ہے کہ لوگ خود دیکھیں کہ سیاستدان کیا کہہ رہے ہیں تاکہ وہ اپنا فیصلہ کرسکیں، مجھے نہیں لگتا کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو سیاستدانوں یا خبروں کو سنسر کرنا چاہیے۔

مارک زکربرگ کی جانب سے کافی عرصے سے فیس بک کی سیاسی تقاریر کے حوالے سے متنازع حکمت عملی کا دفاع کیا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک پر غلط معلومات کی ترسیل، نفرت انگیز تقاریر اور دیگر مواد کی روک تھام کے لیے دباﺅ بڑھ رہا ہے۔

فیس بک کی سیاسی اشتہارات کی پالیسی پر تنقید کا نیا سلسلہ اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب فیس بک نے ڈیموکریٹ جو بائیڈن کی صدارتی مہم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اشتہار کو ہٹانے سے انکار کردیا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس میں سابق نائب صدر کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہے۔

فیس بک کی جانب سے سیاسی اشتہارات کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلیوں پر غور کیا جارہا ہے مگر اس کا موقف اس معاملے میں دیگر کمپنیوں سے مختلف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں