پیر, جون 8, 2026
اشتہار

ایک سفر آبلہ پائی کا….

اشتہار

حیرت انگیز

ہمارے معاشرے میں شادی کو عورت کی زندگی کا کل اثاثہ اور طلاق کو اس کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامی تصور کیا جاتا ہے۔ جب یہ حادثہ کسی عورت کے ساتھ ایک سے زیادہ بار پیش آ جائے تو معاشرے کی نظروں میں وہ مظلوم نہیں رہتی بلکہ "قصور وار” بن جاتی ہے۔

لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس دہلیز کو ایک بار چھوڑنا کسی عورت کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا، اسے بار بار اجڑتے دیکھنا اس کی روح پر کتنے گہرے گھاؤ لگاتا ہوگا۔ ایک سے زیادہ طلاقیں بھگتنے والی عورت کے لیے سب سے بڑی مشکل وہ خاموش انگلیاں ہوتی ہیں جو اس کی جانب اٹھتی رہتی ہیں اور سب سے بڑی اذیت وہ سرگوشیاں ہوتی ہیں جو ہر وقت اس کا پیچھا کرتی ہیں۔ اسے کبھی "منحوس” کہا جاتا ہے تو کبھی اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ رشتہ دار ہوں یا محلے دار، سب کو یہی گمان ہوتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی عیب ہوگا، تبھی کوئی اسے نبھا نہیں سکا۔

پاکستانی معاشرے میں مرد کی خامیوں کو اکثر یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ مرد ہے، لیکن عورت سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ صبر اور قربانی کی تصویر بن کر ظلم کو بھی سہتی رہے۔ اگر وہ اپنی عزتِ نفس کے لیے آواز اٹھائے یا کسی غلط جگہ رشتہ ہو جانے پر اس گھر کو چھوڑنے کی ہمت کرے، تو اسے خود سر اور بدتمیز قرار دے دیا جاتا ہے۔ تیسری یا دوسری طلاق کے بعد تو جیسے اس پر زندگی کے دروازے ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔ اسے خاندان کی تقریبات میں بلانے سے گریز کیا جاتا ہے کہ کہیں اس کا "نحس” دوسروں کے بسے بسائے گھروں پر نہ پڑ جائے۔ یہ رویہ اسے ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے اور وہ خود کو ایک بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ طلاق یا خلع لینا کسی بھی عورت کا شوق نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مجبوری کا فیصلہ ہوتا ہے جو وہ اپنی روح کو مزید ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کرتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک کامیاب اور خود مختار عورت اگر بار بار رشتوں کے امتحان میں ناکام ہو رہی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بری ہے، بلکہ یہ اس معاشرتی رویے کی عکاسی ہے جہاں مرد ایک مضبوط عورت کا ساتھ نبھانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ ہمیں عورت کو اس کی طلاقوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت، اس کی ہمت اور اس کی جدوجہد سے پہچاننا چاہیے۔ جب تک ہم طلاق یافتہ عورت کو "ناکام” سمجھنا نہیں چھوڑیں گے، تب تک ہم ایک ہمدرد اور باشعور معاشرہ تشکیل نہیں دے سکیں گے۔ زندگی کسی رشتے کے ختم ہونے سے ختم نہیں ہوجاتی، بلکہ بعض اوقات ایک دہلیز کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینا بھی اصل زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

عمران الرحمٰن
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں