The news is by your side.

Advertisement

بنگلہ دیش، روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں شادی کے شادیانے

ڈھاکہ : روہنگیا مسلمانوں کے پناہ گزین کیمپ میں نوجوان جوڑے کی شادی سے زندگی کی رنقیں بحال ہو گئی ہیں اور چند لمحوں کے لیے سہی مہاجرین اپنے زخم کو بھول گئے.

تفصیلات کے مطابق شادی کی سادہ سی تقریب بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں انجام پائی جہاں برادری کے دیگر افراد کی موجودگی نوبیاہتا جوڑے نے عمر بھر کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کے پُر خم راستوں کو طے کرنے کا فیصلہ کیا.

بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شادی کی سادہ سی تقریب میں روایتی موسیقی کے سُر بھی بکھیرے گئے اور ڈھولک کی تھاپ پر نوجوانوں نے رقص کیا اور خواتین نے موقع کی مناسبت سے نغمات پیش کیے.

گو کہ بے وطنی اور غربت کے باعث دلہا دلہن معمولی کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے لیکن زندگی کے اس نہایت ہی اہم موقع پر ان کے چہرے خوشی سے شادمان تھے اور آنکھیں اچھے مستقبل کے خواب سے لیس تھیں.

دلہن ’’ شفیقہ بیگم ‘‘ اور دلہا ’’ صدام حسین ‘‘ کی شادی تقریب بانسوں سے بنے اور پلاسٹل کی شیٹس سے ڈھکے عارضی مکان میں ہوئی جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی خال خال ہی موجود ہیں.

تاہم دلہا دلہن اور ان کے اہل خانہ اس بات پر خوش ہیں کہ برمی حکومت کے مظالم سے محفوظ رہے اور زندہ یہاں تک پہنچ پائے تاہم اس موقع پر وہ ان افراد کی کمی نے ماحول سوگوار کردیا جو ہجرت کے دوران لقمہ اجل بن گئے.

خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں واقع کٹو پالونگ مہاجر کیمپ میں اس وقت ساڑھے 6 لاکھ سے زائد روہنگیا پنا ہ گزین موجود ہیں جو اپنا گھر بار چھوڑ کر محض جان بچانے کے لیے یہاں آباد ہیں.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں