کراچی (02 مارچ 2026): سندھ ہائی کورٹ نے شادی کا جھانسہ دے کر خاتون سے زیادہ کے مقدمے میں ملزم عبداللہ ولد حاجی نادر شاہ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔
سندھ ہائیکورٹ نے کیس میں عبداللہ نامی شخص کے خلاف ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا، جسٹس اقبال کلہوڑو نے قرار دیا کہ شادی کے جھوٹے وعدے کے ذریعے حاصل کی گئی رضامندی قانونی نہیں ہے۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے حاصل کی گئی رضامندی، رضامندی نہیں بلکہ یہ ریپ کے زمرے میں آتی ہے، شادی کے وعدے کے ذریعے خاتون کو قائل کرنا ذہنی دباؤ اور فریب کے زمرے میں آتا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے ملزم عبداللہ کو 10 برس قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، ملزم کے خلاف مقدمہ تھانہ چاکیواڑہ میں درج کیا گیا تھا۔ جس نے انیسہ نامی خاتون کو شادی کے بہانے پنجاب سے بلا کر گیارہ بارہ دن گلستان کالونی کے ایک گھر میں رکھا، اور پھر شادی سے انکار کر دیا۔
کراچی میں ڈرون اڑانے والے دو افراد گرفتار
معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ پنجاب کے شہر احمدپور کے لنڈا بازار میں دکان کرتا تھا، جہاں اس کی ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے ملاقات ہوئی اور پھر دوستی ہو گئی، دونوں نے شادی کرنی چاہی لیکن خاتون انیسہ کی والدہ نے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد عبداللہ کراچی منتقل ہوا اور بعد ازاں انیسہ کو دھوکے سے بلا لیا۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


