اگر آپ اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو تقریباً ہر محلّے اور ہر گلی میں دو تین ایسی کنواری لڑکیاں ملیں گی جن کی شادی کی عمر ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتی جا رہی ہے۔ کچھ کے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے مگر مانگ نہیں بھری ہے۔ لیکن اس تکلیف دہ منظر کے باوجود طلاقوں کی بڑھتی ہوئی شرح میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
وہ لڑکیاں جو بڑے مان اور عزت کے ساتھ بیاہی گئی تھیں، پانچ دس سال کی ازدواجی زندگی گزار چکیں اور اب دو چار بچّوں کی مائیں بھی ہیں، آخر انہیں ایسا کیا ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا بسا بسایا گھر پھونک دیتی ہیں؟ دل یہ ماننے سے قاصر ہے کہ ایک ماں اپنے جگر گوشوں کے مستقبل سے بڑھ کر کچھ اور سوچ سکتی ہے، مگر پھر بھی یہ ہو رہا ہے۔ کیوں؟
جب ہم ان کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ جنہیں "ملکہ” بنا کر رکھنے کے وعدے کیے گئے تھے، انہیں "باندیوں” سے بدتر بنا دیا گیا۔ دو وقت کی روٹی اور دو جوڑے کپڑوں کے عوض ان کی عزّتِ نفس کو روندا گیا۔ جنہوں نے احتجاج کی صدا بلند کرنے کی کوشش کی، انہیں فوراً ان کی "اوقات” یاد دلا کر زندگی کے تپتے صحرا میں دھکیل دیا گیا۔ مگر تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے جو اتنا ہی الم ناک ہے۔ اسی معاشرے میں وہ "مڈل کلاس مرد” بھی کھڑا ہے جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی تگ و دو میں خود کو تھکا رہا ہے۔ وہ جب رشتہ لے کر نکلتا ہے تو اسے کسی انسان کے بجائے ایک "کموڈٹی” (شے) کی طرح پرکھا جاتا ہے۔ اس کی شرافت، تعلیم اور خاندانی اقدار کو مادّی پیمانوں، بینک بیلنس اور عالیشان گھر کے ترازو میں تول کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
المیہ صرف "ریجیکشن” تک محدود نہیں، بلکہ اصل اذیت شادی کے بعد شروع ہوتی ہے۔ وہ سفید پوش مڈل کلاس مرد جو اپنی بساط سے بڑھ کر گھر کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے، اکثر وہاں بھی "ناکام” قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب سوشل میڈیا کی چکا چوند اور دوسروں کے طرزِ زندگی سے متاثر ہو کر خواہشات کے پہاڑ کھڑے کر لیے جاتے ہیں، تو ایک محدود آمدنی والا شوہر "بے بس” نظر آنے لگتا ہے۔خواہشات کی اس بے لگام دوڑ میں جب وہ آگے نہیں نکل پاتا، تو محبت کے دعوے ہوا ہو جاتے ہیں اور اسے صرف اس لیے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی کی آسودگی کا ذریعہ نہ بن سکا۔ مرد کی خاموش قربانیوں کو نظر انداز کر کے اسے مالی محرومی کا طعنہ دینا، ہمارے خاندانی نظام کی جڑوں میں وہ زہر گھول رہا ہے جس کا انجام صرف اور صرف علیحدگی ہے۔
آج شادی کے خوبصورت بندھن کو جس "پیشہ ورانہ” انداز میں طے کیا جا رہا ہے، اس نے اس رشتے کی پائیداری کو مشکوک بنا دیا ہے۔ رشتہ اور شادی کروانے والی ویب سائٹس اور فیس بک پیجز پر مڈل ایج طلاق یافتہ خواتین اور تنہا مردوں کے رشتوں کی بھرمار اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ہمارا معاشرہ خاندان کی اکائی کھو رہا ہے۔ شادی کا مقدس بندھن اب الفت سے زیادہ ضرورت، وقت گزاری اور سمجھوتے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
محبت کی طنابیں کمزور ہو چکی ہیں اور اس رشتے پر تواتر سے پڑنے والی شیطانی ضربیں اب صرف ایک آخری جھٹکے کی محتاج رہ گئی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی انا، ہوس اور اپنی کوتاہیوں کا بوجھ "نصیب” کے کاندھے پر ڈال کر بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں:
"جی ہم ہیں نصیبوں سے خائف لوگ!”


