The news is by your side.

Advertisement

عوام2018 میں سازش کرنے والوں کو لگام دیں گے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد : وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام 2018 میں ترقی کاراستہ روکنےوالوں اورحکومت کے خلاف سازش کرنے والوں لگام دیں گے، حکومت نے زیرولوڈشیڈنگ پاکستان کا اعلان کر دیا ہے، عمران خان حکومت اور اداروں کیخلاف منفی سیاست کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے زیرولوڈشیڈنگ پاکستان کا اعلان کر دیا ہے، لوڈشیڈنگ ختم کرنے کےاعلان سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑی، 4سال میں بجلی کی ریکارڈ پیداوار کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 2013میں 15سے16گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ، 4 سال میں پی ٹی آئی نے اداروں کو برا بھلا کیا، ملک میں کارخانے لگ رہے تھے ایک شخص کنٹینر پر کھڑا گالیاں دے رہا تھا، عمران خان حکومت اور اداروں کیخلاف منفی سیاست کررہے ہیں۔

وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات نے کہا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات2018کی تیاریاں کررہی ہیں ، مخالفین 4سال کےدوران عوامی منصوبوں پر تنقید کرتے رہے، احتساب کانعرہ لگانےوالوں نےکےپی کے میں احتساب کو تالالگایا، پارلیمنٹ کو گالیاں دینے والے استعفے دے کر واپس لے چکے ہیں۔


مزید پڑھیں : جس نے اندھیرے مٹانے کا وعدہ کیا آج وہ نااہل ہوکرپیش ہورہا ہے،مریم اورنگزیب


انکا کہنا تھا کہ نوازشریف کے تمام رکاوٹوں کے باوجود ملک کی ترقی کا سفر جاری رکھا، ملک کی خدمت کرنےوالے ملک میں رہ کر خدمت کررہے ہیں، زعیم قادری نے بیان دیا ہے کہ فیصلےکو چیلنج کرینگے ۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ سازش کرنیوالوں کو لگام عوام 2018میں ڈالیں گے ، عوام دیکھ رہی ہے حکومت کو کس طرح سازش کا شکار بنایاگیا، دھرنے پر مزید گفتگو پاکستان کے حق میں بہتر نہیں ، پاکستان مزید دھرنوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات کا کہناتھا کہ اداروں کو پاکستان کے آئین کے مطابق ہی کام کرنا ہوگا، ادارے پاکستان کے آئین سے ہٹ کر کام نہیں کرسکتے ، ہزار لوگوں کی قربانی کوئی آسان کام نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پہلی بارگڈ اور بیڈ طالبان کا تاثر ختم ہوچکا ہے ، وفاقی اورصوبائی حکومتیں مل کرکام کررہی ہیں ، بہت جلد پاکستان سے دہشتگردی کا بھی مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں