The news is by your side.

Advertisement

سرخ سیارے میں ‘پُر اسرار گڑگڑاہٹ’ کی وجہ کیا ہے؟ اہم انکشاف سامنے آگیا

زمین کے بعد مریخ غالباً وہ واحد سیارہ ہے جس پر انسان نے سب سے زیادہ تحقیق کی ہے، کیونکہ سائنس دانوں کو یہ امید ہے کہ نظامِ شمسی میں اگرزمین کے بعد کہیں زندگی موجود ہوسکتی ہے تو وہ اسی سیارے پر ممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مریخ پر تحقیق سے متعلق نت نئی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں ایسی ہی ایک تحقیق سامنے آئی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق مریخ کی سطح کے نیچے ہونے والی گڑگڑاہٹ کے حوالے سے نئی تکنیکوں نے مریخ کی زیر زمین مشاہدے میں نہ آنے والے زلزلوں کا انکشاف کیا ہے اور سائنس دانوں کے مطابق یہ جاری آتش فشانی سرگرمی کی جانب بہترین توجہ ہے۔

حاصل کے گئے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مریخ مردار نہیں ہے لیکن اس کے گردیلی، بنجر سرزمین کے نیچے کا ماحول میں ‘زمینی سرگرمیوں’ کی گڑگڑاہٹ موجود ہے۔

آسٹریلیا کی نیشنل یونیورسٹی کے جیو فزسسٹ ہروژ ٹکیلشک کہتے ہیں کہ یہ جاننا کہ مریخ کا مینٹل ابھی بھی فعال ہے، یہ سمجھنے کے لیے اہم ہے کہ مریخ کی بطور سیارہ ارتقاء کیسے ہوئی؟

انہوں نے کہا کہ یہ معلومات نظامِ شمسی کے متعلق بنیادی سوالات اور مریخ کے کور، مینٹل اور اس میں مقناطیسی فیلڈ کی عدم موجودگی کی ارتقاء کے متعلق جواب دے سکتی ہے۔

طویل عرصے تک سائنس دانوں کا ماننا تھا کہ مریخ اندر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا مریخ پر آواز کی رفتار زمین سے مختلف ہے؟ ناسا نے بڑی خبر شیئر کردی

سیاروی مقناطیسی فیلڈز عموماً سیارے کے اندر کسی چیز سے پیدا ہوتی ہیں، جس کو ‘ڈائنامو ‘کہا جاتا ہے، یہ ایک گھومتا، حرارت کو منتقل کرتا اور بجلی پکڑنے والا ایک فلوئڈ ہوتا ہے جو کوئنیٹک انرجی کو مقناطیسی توانائی میں بدلتا ہے اور خلا میں ایک مقناطیسی فیلڈ کو گُھماتا ہے۔

مریخ میں مقناطیسی فیلڈ کی عدم موجودگی سیارے کے غیر فعال ہونے کے متعلق بتاتی ہے، یہ ایک اہم چیز ہے، مقناطیسی فیلڈ زندگی اور موت کے درمیان فرق ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ مریخ عطارد کے بعد نظام شمسی کا دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں