The news is by your side.

Advertisement

مریخ پر آکسیجن، ناسا نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے سرخ سیارے پر زندگی کے لیے ضروری عنصر آکسیجن کی تیاری میں کامیابی حاصل کر لی۔

تفصیلات کے مطابق مریخ پر ناسا کا خلائی مشن Perseverance کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آکسیجن تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا، 20 اپریل کو ’پرسیورینس مارس رووَر‘ نے مریخ کے ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کر کے اسے سانس لینے کے قابل آکسیجن میں تبدیل کر دیا۔

یہ کارنامہ ناسا کی اس جدید اور نئی خلائی گاڑی جو چھ پہیوں والا روبوٹ ہے، نے مریخ پر اپنی 60 ویں دن انجام دیا، اس مشن نے مریخ پر 18 فروری کو لینڈ کیا تھا۔

ناسا کے اس مشن پرسیورینس کا اصل مقصد تو مریخ پر زندگی کے آثار کو تلاش کرنا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس خلائی گاڑی کو دیگر سائنسی تجربات کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ناسا کی فضا کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھرپور ہے، اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے خلائی گاڑی پر ٹوسٹر (ٹوسٹ گرم کرنے والی مشین) جتنا ایک آلہ لگایا گیا ہے، جسے MOXIE کا نام دیا گیا ہے یعنی مارس آکسیجن انسیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن ایکسپیریمنٹ۔

اس آلے کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مالیکیولز سے آکسیجن ایٹمز کو الگ کیا گیا، اور اس کے لیے گیس کو لگ بھگ 1470 ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کر کے کاربن مونو آکسائیڈ تیار کیا گیا۔

اس آلے کے پہلے تجربے کے دوران 5 گرام آکسیجن تیار ہوئی، جس سے ایک خلا باز 10 منٹ تک اپنے اسپیس سوٹ میں سانس لے سکتا ہے، ناسا کے مطابق اس تجربے کی کامیابی سے مستقبل کے مشنز کے لیے ایک نیا ذریعہ ہاتھ آیا ہے، بالخصوص ایسے مشنز جن میں انسانوں کو راکٹوں میں مریخ پر بھیجا جائے گا، جہاں انھیں آکسیجن کی ضرورت ہوگی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ مریخ پر 4 انسانوں کو لے جانے والے راکٹ میں 55 ہزار پاؤنڈ آکسیجن بھیجنے کی ضرورت ہوگی، مگر مریخ تک اتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن بھیجنا ممکن نہیں، اس لیے اس نئی ٹیکنالوجی سے مستقبل کے مشنز کے لیے سرخ سیارے کی کھوج زیادہ آسان ہوسکے گی۔

واضح رہے کہ یہ پہلی بار ہے جب زمین سے باہر کسی جگہ آکسیجن تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ یہ مشن دراصل مریخ پر مائیکروبیل (microbial) زندگی کے آثار کی تلاش کا کام کر رہا ہے، جو 3 ارب برس قبل مریخ پر موجود تھے، جب نظام شمسی کا چوتھا سیارہ سورج سے زیادہ گرم ، نم اور زندگی کے لیے ممکنہ طور پر سازگار تھا، سائنس دانوں نے اس کے لیے امید بھی ظاہر کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں