The news is by your side.

Advertisement

مریخ پر پانی مگر کیسے؟ سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

سیارہ مریخ دیکھنے میں سرخ مٹی کا ایک خشک بیاباں صحرا لگتا ہے لیکن اس میں جھیلیں بھی موجود ہیں جس کے آثار ماہرین نے دریافت کرلیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب یہ سیارہ نوعمر تھا تو اس پر پانی کی وافر مقدار موجود تھی، اس کی سطح اور زمین کے نیچے پانی کی بھرپور مقدار موجود تھی اور آج بھی اس کے آثار موجود ہیں۔

ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے بعد کہا جا رہا ہے کہ مریخ کے جنوبی قطب کے نیچے سائنسدانوں کے تصور سے زیادہ پانی ہونے کی امید ہے۔

مریخ کے جنوبی قطب کے نیچے کوئی ایسی شے ہے جو نیچے کی طرف آمد و رفت کر رہی ہے اور اس کے بارے میں سائنسداں بہت زیادہ تفصیل حاصل نہیں کر پائے ہیں لیکن ریڈار کے سگنلز نے آبی ذخائر کا امکان ظاہر کیا ہے۔

یہ دعویٰ یوروپین اسپیس ایجنسی کے مارس ایکسپریس اسپیس کرافٹ اور مارس ایڈوانس راڈار سے ملے اعداد و شمار کے مطابق سائنسدانوں نے کیا ہے۔

سال2018 میں یورپ کے مارس ایکسپریس اسپیس کرافٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں مریخ کے جنوبی قطب پر زمینی سطح کے نیچے 19 کلو میٹر چوڑی اور تقریباً 1.6 کلو میٹر گہری جھیل کا اشارہ اور ثبوت ملا ہے۔

یہ جھیل اوپری خشک اور اوبڑ کھابڑ سطح کے کافی نیچے ہے اب اسی اسپیس کرافٹ کے سائنسدانوں کی ٹیم نے پھر سے اس دعوے کی تصدیق کی اور امکان ظاہر کیا ہے کہ سطح کے نیچے جھیلیں موجود ہیں۔

مارس ایکسپریس اسپیس کرافٹ میں لگے مارس ایڈوانس ریڈار فار سب سرفیس اینڈ آئنوسکوپک ساؤنڈنگ (مارسس) کے ڈیٹا سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سال 2018 کی تلاش درست ہے لیکن وہاں پر ایک جھیل نہیں ہے بلکہ وہاں پر درجنوں جھیلیں ہیں۔ ان میں سے کئی جھیلیں 10 کلو میٹر چوڑی ہیں اور اب تک ایسی تقریباً تین جھیلوں کے سائز کا صحیح طریقے سے اندازہ لگایا جا سکا ہے۔

مارسس کے ڈیٹا کو جب اس سال گہرائی سے جانچا گیا تب علم ہوا کہ یہ بات درست ہے۔ ایریجونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹورل محقق اور ہند نژاد آدتیہ کھلّر اور مارسس کے کو پرنسپل انوسٹی گیٹر اور ناسا کے جیٹ پروپلشن لیباریٹری کے سائنٹسٹ جیفری پلاؤٹ نے اس ریڈار کے 44 ہزار اعداد و شمار کا مطالعہ کیا، یہ اعداد و شمار گزشتہ 15 سالوں میں جمع کیے گئے تھے۔

آدتیہ کھلر اور جیفری پلاؤٹ نے دیکھا کہ مارسس نے چار مزید جھیلوں کا پتہ لگایا ہے۔ یہ افقی اور عمودی طور پر ایک دوسرے سے کافی دور ہیں لیکن کئی اور جھیلیں ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ علاقہ اتنا زیادہ ٹھنڈا ہے کہ یہاں پر پانی مائع کی شکل میں رہ ہی نہیں سکتا، یہ جم کر برف بن جاتا ہے جیسے کہ ہماری زمین پر شمالی اور جنوبی قطب پر جمی برف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں