The news is by your side.

مارشل آرٹ کے بے تاج بادشاہ بروس لی کے پراسرار موت کا راز کھل گیا

فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کا انتقال 20 جولائی 1973 کو 32 سال کی عمر میں ہوا۔

بروس لی کی اتنی کم عمری میں موت کی وجہ سے اسے پراسرار قرار دیا گیا جس کے بعد متعدد عجیب تھیوریز سامنے آئیں۔

مگر اب ایک نئی تحقیق میں لٹل ڈریگن کی عرفیت سے مشہور بروس لی کی موت کی ممکنہ وجہ بتائی گئی ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ بروس لی کی موت کی وجہ بہت زیادہ پانی پینے کی وجہ سے ہوئی، ابھی اس تھیوری کی تصدیق تو نہیں ہوئی مگر اس مقصد کے لیے محققین نے بروس لی کی موت سے جڑے حقائق کا تجزیہ کیا تھا۔

معروف اداکار کو موت کے دن شام ساڑھے 7 بجے پانی پینے کے بعد سردرد اور سر چکرانے کا تجربہ ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک درد کش دوا کھائی، 2 گھنٹے بعد وہ مردہ پائے گئے۔

موت کے بعد پوسٹ مارٹم سے انکشاف ہوا تھا کہ بروس لی کا دماغ سوج گیا تھا جس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ان کی موت دوا کے مضر ری ایکشن کے باعث ہوئی۔

کلینیکل کڈنی جرنل میں شائع تحقیق میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ بروس لی نے یہ دوا سردرد اور سر چکرانے کے بعد کھائی تھی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ دوا کھانے سے پہلے ہی ان کا دماغ سوجن کا شکار ہوچکا تھا۔

محققین کے مطابق تفصیلات پر مبنی ہمارے تجزیے میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ دماغی سوجن درحقیقت ہائپو نیٹریمیا کا نتیجہ تھی۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال ہے گردوں کا بہت زیادہ پانی کو فلٹر نہ کرپانا بروس لی کی موت کی وجہ بنا۔

بروس لی کی اہلیہ اور ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اداکار نے ٹھوس خوراک کو چھوڑ کر صرف گاجر اور سیب کے جوس تک خود کو محدود کرلیا تھا، اس طرح کی غذا سے بھی ہائپو نیٹریمیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہائپو نیٹریمیا کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد بہت کم وقت میں بہت زیادہ مقدار میں پانی پی لیتا ہے اور گردے اس پانی کو فلٹر کر نہیں پاتے، مگر ایسے شواہد موجود نہیں جن سے عندیہ ملتا ہو کہ بروس لی نے ایسا کیا تھا۔

محققین کے مطابق ہمارا خیال میں بروس لی کی موت گردوں کے غیرفعال ہونے کا نتیجہ تھی کیونکہ گردے اضافی سیال کو کنٹرول نہیں کرسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں