The news is by your side.

Advertisement

یہ شکر کہاں‌ سے آتی ہے؟ جرمن سفیر پروسیسنگ یونٹ پہنچ گئے

اسلام آباد: گنے کی پروسیسنگ کہاں ہوتی ہے؟ شکر کہاں سے آتی ہے؟ یہ سوال جرمن سفیر مارٹن کوبلر کو پراسیسنگ یونٹ لے گیا.

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر انتہائی مقبول اور متحرک جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے چند تصاویر شیئر کی ہیں، جس میں‌ وہ گنے کی پروسیسنگ کا جائزہ لے رہے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ انھیں‌ ابتدا ہی سے تجسس تھا کہ گنے کی پروسیسنگ کیسے ہوتی ہے، تو وہ جنوبی پنجاب شکر کے پیداواری یونٹ پہنچ گئے.

انھوں نے تین حصوں میں کیے جانے والے ٹیویٹس میں‌ تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کسان گنے کی فصل کاٹتے ہیں اور اس سے گنے کا رس (روہ) بناتے ہیں.

دوسرے مرحلے میں وہ اس رس کو گنے کا چورا جلا کرپکاتے ہیں، سوڈا اور پاؤڈر وغیرہ شامل کیا جاتا ہے، تاکہ یہ صاف ہو جائے.

ان کا کہنا تھا کہ پھر اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے الگ لکڑی کے برتن میں منتقل کر دیتے ہیں، اس کے بعد وہ صرف اس کی کرشنگ کرتے ہیں اور اب یہ کھانے کے لئے تیار ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں