اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

ایک عہد کا خاتمہ! ایران کے شہید رہنما علی لاریجانی کون تھے؟

اشتہار

حیرت انگیز

تہران : علی لاریجانی انقلابِ ایران کے وہ مایہ ناز سپوت اور مدبر سیاستدان تھے اور نظامِ ایران میں توازن اور وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے جن کا سفرِ حیات امریکہ اور اسرائیل کے بزدلانہ حملے میں شہادت پر اختتام پذیر ہوا۔

تفصیلات کے مطابق عالمِ اسلام اور ایرانی سیاست کی قد آور شخصیت، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی سمیت شہید ہو گئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا اور ان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے اس اندوہناک خبر کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔

انقلابِ ایران سے شہادت تک کا سفر

علی لاریجانی کا شمار امام خمینیؒ کی قیادت میں آنے والے انقلابِ ایران کے بنیادی اور مخلص رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

انہوں نے اپنی خدمات کا آغاز ایران عراق جنگ کے دوران بطور "فرنٹ لائن فائٹر” کیا اور اس معرکے میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سربراہ کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کیا۔

شہید لاریجانی نے دہائیوں تک ایران کے اہم ترین ریاستی و دفاعی عہدوں پر کام کیا، انھوں نے 1992 سے 2003 تک بطور وزیرِ ثقافت ملک کی ثقافتی پالیسیوں کی نگرانی کی جبلپ 1993 سے 2004 تک ایرانی ریڈیو اور ٹی وی کے سربراہ رہے۔

صدر احمدی نژاد کے دور میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری منتخب ہوئے، تاہم سیاسی اختلافات پر استعفیٰ دیا جبکہ وہ 2025 میں دوبارہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری مقرر ہوئے اور اپنی شہادت تک اسی حساس منصب پر فائز رہے۔

شہادت سے محض چند گھنٹے قبل علی لاریجانی نے اپنے آخری ٹوئٹ میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا "میں موت کو اللہ سے ملاقات اور خوشی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔”

ان کی شہادت کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ "ایک بندہِ خدا اپنے رب کے حضور شہید کے طور پر پہنچ گیا ہے۔”

شہید علی لاریجانی اور ان کے صاحبزادے کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جائے گی، جس میں اعلیٰ حکام سمیت عوام کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔

تہران کی فضا سوگوار ہے اور پوری قوم اس عظیم نقصان پر سراپا احتجاج ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں