site
stats
اے آر وائی خصوصی

ماضی کے جھروکے: کراچی میں جنگِ آزادی کے شہدا کی یادگار

رپورٹ: اسلم کھٹیان

کراچی : شہرقائد میں جنگ آزادی 1857ء کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک تقریب بعنوان ’’1857ء کی جنگ آزادی میں کراچی کا کردار‘‘ کا انعقاد کیاگیااور شہداء کی یاد میں ایمپریس مارکیٹ کے باہر دیے بھی جلائے گئے ۔

صدر کی ایمپریس مارکیٹ کے باہر ارتقاء انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی جانب سے منعقدہ اس تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نامور مصنف، محقق اور تاریخدان گل حسن کلمتی کاکہنا تھا کہ 13 ستمبر1857ء کی شب تقریباً رات کے ساڑھے گیارہ بجے ایک مقامی فوجی صوبیدار رام بنے کمانڈنگ افسر کے بنگلے پر ان سے ملنے کیلئے پہنچتا ہے اور گارڈ کو پیغام دیتا ہے کہ وہ کمانڈنگ افسر سے مل کر انہیں اہم معلومات دینا چاہتا ہے۔ کچھ نوک، جھونک کے بعد بالآخر صوبیدار کی کمانڈنگ افسر سے ملاقات ہوجاتی ہے ۔

post-5

صوبیدار کمانڈنگ افسر کو بتاتا ہے کہ 21 ویں بمبئی نیٹو انفنٹری رجمنٹ نے آج رات دو بجے بغاوت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ چھاؤنی کا نقشہ سمیت دیگر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، اور اس سلسلے میں شہریوں سے مدد حاصل کرنے کیلئے ایک سپاہی کوشہر کی طرف بھیجاگیا ہے اور ایک سپاہی کو 14 ویں نیٹو انفنٹری رجمنٹ سے مدد حاصل کرنے کیلئے بھیجاگیا ہے ۔ یوں جب اس بغاوت کا راز فاش ہوا توکمانڈنگ افسر میجرمیک گریگر کی آنکھوں کی نیند اڑ گئی اور انہوں نے یہ پیغام سندھ کے کمشنر بارٹل فریئر کو بھیجا۔ کراچی کنٹونمنٹ کا اس وقت نظام برگیڈیئر لاؤتھ اور کمانڈنگ افسر میجر میک گریگر کے حوالے تھا۔

post-1

گل حسن کلمتی کاکہنا تھا کہ اس وقت جہاں ایمپریس مارکیٹ ہے وہاں ایک بہت بڑا میدان ہوتا تھا، وکٹوریہ روڈ (موجود عبداللہ ہارون روڈ، پیرا ڈائز مارکیٹ سے لے کر برنس گارڈن تک ایک فوجی قلعہ تھا، جہاں برطانوی توپ اور اسلحہ رکھا جاتا تھا۔ 1857ء میں یہ پورا فوجی علاقہ تھا۔ یورپین رجمنٹ کی دونوں کمپنیوں کو بغیر کسی بگل یا ڈرم بجانے کے فوراً مسلح ہونے کا حکم دیا گیااور 21 ویں رجمنٹ کی بیرکوں کے سامنے مختلف جگہوں پر پوزیشن سنبھالنے کا حکم دیا گیا۔ یہ سارا کام انتہائی پھرتی اور رازداری سے کیاگیا۔21 رجمنٹ میں اکثریت کا تعلق اودھ، لکھنو، دہلی اور بنگال سے تھا، بغاوت کی قیادت رام دین پانڈے اورسورج بالی تیوری کررہے تھے ۔

post-2

چھاؤنی میں غیر معمولی نقل و حرکت کے بعد باغیوں نے فیصلہ کیا کہ رام دین پانڈے دیگر 21 سپاہیوں کے ہمراہ نکل جائیں اور سورج بالی تیوری اور دیگر اندرموجود رہ کر صورتحال کا جائزہ لیں۔اندر موجود 21 رجمنٹ کے سپاہیوں کو باہر نکلنے کی وارننگ اور حکم دیاگیا۔جس کے بعدحوالدار سورج بال تیوری سمیت دیگر باغیوں کوگرفتار کرلیاگیا۔باغیوں کی کل تعداد 44 تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 22 مفرور باغیوں کی گرفتاری کیلئے کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیاگیا، میٹھادر کے علاقے لیاری ندی کے قریب تین باغیوں کو مقابلے میں شہید کیاگیا اور ان کی لاشوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے سمندر میں بہادیاگیا۔ 16 ستمبر تک 15 باغیوں کو مختلف مقامات سے گرفتار کرلیاگیا۔رام دین پانڈے اور تین دیگر سپاہیوں کو گوٹھ احمد خان سے گرفتار کیاگیا۔ بغاوت کے الزام میں دیگر گرفتار 25 سپاہیوں کو کورٹ مارشل کرکے فوج سے نکالاگیا اور انہیں کالے پانی کی سزا دیکر انڈیمان جزیرے کی طرف بھیج دیاگیا۔

post-3

انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر 1857 کی شام کو گیارہ انقلابیوں کو پھانسی دی گئی اور ان کی لاشوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مقامی نہر میں پھینکا گیا۔ باقی مانندہ چار انقلابیوں سورج بالی تیوری اور رام پانڈے سمیت پانچ انقلابیوں کو توپوں سے اڑایاگیا۔تمام انقلابیوں نے انقلاب زندہ آباد کے فلک شگاف نعروں میں وطن کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔اور انقلابیوں کے سرخ لہو سے سندھ کی دھرتی رنگ گئی ۔

ان کاکہنا تھا کہ ایمپریس مارکیٹ اسی جگہ قائم ہے جہاں ستمبر1857 کے انقلابیوں کو شہید کیاگیا اور توپوں سے اڑایاگیا۔ انگریز نے جب دیکھا کہ لوگ باغیوں کی جائے شہادت پر جمع ہورہے ہیں، اور شہداء کی یادگار بن گئی ہے، تو انہوں نے اس مقام کی حیثیت ختم کرنے اور شہداء کے لہو کو چھپانے کیلئے وہاں 1884ء میں ایمپریس مارکیٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔

post-4

گل حسن کلمتی نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جرئت اور بہادری کی تاریخ رقم کرنے والے شہداء کی یاد میں ایمپریس مارکیٹ کے قریب ایک یادگار تعمیر کرکے شہداء کی شجاعت اور بہادری کی کہانی ان کے ناموں کے ساتھ درج کی جائے تاکہ آئندہ نسلوں کوباخبر رکھا جائے ۔

اس موقع پر شرکاء نے بڑی تعداد میں ایمپریس مارکیٹ پر جمع ہوکرشہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ان کی یاد میں دیے جلائے اور خاموشی اختیار کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top