The news is by your side.

Advertisement

مروہ قتل کیس میں بڑی پیشرفت، گرفتار ملزم کا نام مقدمے سے خارج

کراچی: شہر قائد میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی پانچ سالہ بچی مروہ کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مروہ زیادتی اور قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں تفتیشی افسران نے جج کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کی۔

تفتیشی افسران نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مروہ کیس میں گرفتار ہونے والے ملزم نواز کا نام عدم شواہد کی بنا پر مقدمے سے خارج کردیا گیا ہے جبکہ دو ملزمان فیض عرف فیضو اور عبداللہ نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

عدالت نے رپورٹ کی روشنی میں گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان فیض عرف فیضو اور عبداللہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

یاد رہے کہ پولیس نے کیس کے مرکزی ملزمان فیض اور عبداللہ کو گرفتار کرکے اُن کا ڈی این اے میچنگ کے لیے فرانزک لیبارٹری بھیجا جو میچ کرگیا تھا جبکہ بچی کی لاش سے ملنے والے کپڑوں کے فنگر پرنٹ بھی میچ ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: مروہ قتل کیس: ملزمان فیض اور عبداللہ کا ڈی این اے میچ کرگیا

ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی نے بتایا تھا کہ ملزمان نے نشے کی حالت میں بچی کے ساتھ زیادتی کی اور پھر اُسے قتل کردیا، تفتیش کے دوران 34 افراد کے ڈی این اے سیمپل لے کر انہیں جانچ کے لیے بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ کیس میں گرفتار ہونے والا ملزم نواز تفتیش میں بے قصور ثابت ہوا ہے، تحقیقاتی ٹیم نے 100 کے قریب گھروں کی تلاشی بھی لی۔

یاد رہے کہ پی آئی بی کالونی کی رہائشی 5 سالہ بچی 7 ستمبر کی شام  اپنے گھر سے بسکٹ لینے نکلی تھی، جسے اغوا کرلیا گیا تھا، اہل خانہ نے گمشدگی کے خلاف مقدمہ درج کرایا مگر پولیس بچی کو تلاش کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘چھوٹے سے ثبوت نے پولیس کو مروہ کے قاتلوں تک پہنچا دیا’

ایک روز بعد مروہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور اُس کی سوختہ لاش کراچی کے علاقے سبزی منڈی میں واقع کچرے سے بھرے خالی پلاٹ سے برآمد ہوئی تھی۔ ڈاکٹرز نے پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد زیادتی کی تصدیق کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں