The news is by your side.

’’لائف آفٹر ڈیتھ‘‘ وہ تصنیف جس نے مارگریٹ مارکیوس کی زندگی بدل دی

مارگریٹ مارکیوس وہ نام تھا جو مریم جمیلہ کو ان کے والدین نے دیا تھا۔ 24 مئی 1961ء کو جب وہ اپنے آبا و اجداد اور والدین کا مذہب ترک کر کے دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئیں تو یہ نام اپنا لیا۔

22 مئی 1934ء کو امریکا میں آنکھ کھولنے والی مارگریٹ مارکیوس کا اصل وطن جرمنی تھا۔ ان کا خاندان 1848ء میں امریکا آگیا تھا اور یہ لوگ نیوروشیل میں سکونت پذیر تھے۔ وہ اسکول کے ذہین بچّوں میں شمار ہوتی تھیں‌۔ ہائی اسکول سے فارغ ہوکر یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو پہلے سمسٹر کے آغاز پر انھیں ایک بیماری کی وجہ سے مجبوراً تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ اسی زمانے میں‌ مارگریٹ کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا۔

1953ء میں وہ نیویارک یونیورسٹی میں داخل ہوئیں جہاں اسلام اور یہودیت کے موضوع میں‌ ان کی دل چسپی بڑھتی چلی گئی اور وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ انھوں نے دونوں‌ مذاہب کو کتابوں اور مختلف اسکالرز کی مدد سے سمجھنا شروع کیا تو 1956ء میں ایک مرتبہ پھر بیماری نے حملہ کر دیا اور انھیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس بار علالت اور بیماری کے سبب رسمی تعلیم کا سلسلہ ختم ہو گیا اور وہ ڈگری حاصل نہ کرسکیں لیکن ان کا مذاہب کا مطالعہ جاری رہا۔ والدین سے سوالات کے ساتھ وہ اپنے مذہب کے علما سے بھی ملتی رہیں، لیکن متعدد مذاہب اور اسلام کا موازنہ اور تقابلی مطالعہ کرنے پر ان کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی کہ ایک اور نومسلم مستشرق علّامہ محمد اسد کی کتاب’’ روڈ ٹو مکّہ‘‘ پڑھنے کو ملی۔ اس کے علاوہ وہ قرآن کے تراجم بھی پڑھ رہی تھیں اور انھوں نے فیصلہ کرلیا کہ اسپتال سے فراغت کے بعد اپنا مذہب ترک کردیں‌ گی وہ نیویارک کے مسلمانوں سے میل جول بڑھاتے ہوئے وہاں کے اسلامک سینٹر میں جانے لگیں اور کچھ عرصے سے والدین سے جو اختلاف پیدا ہوگیا تھا، 1959ء میں کافی بڑھ گیا۔ اس کا سبب مذاہب کا مسلسل مطالعہ اور یہودیت سے متعلق سوالات تھے، والدین نے ان کو علیحدہ کردیا اور مریم جمیلہ کو ملازمت کرنا پڑی۔

اسی دوران انھیں مولانا مودودی کا ایک مقالہ ’’لائف آفٹر ڈیتھ‘‘ کے عنوان سے پڑھنے کا موقع ملا اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئیں۔ 1960ء کے آخر میں وہ مولانا سے خط و کتابت کے بعد قبولِ اسلام کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوگئیں۔ وہ بروکلین میں نیویارک کے اسلامک مشن کے ڈائریکٹر شیخ داؤد احمد فیصل کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ ان کا نام مریم جمیلہ رکھا گیا۔

بعد کے عرصہ میں‌ وہ مغرب میں ایک نامور مبلغۂ اسلام کے طور پر مشہور ہوئیں۔ قبولِ اسلام کے بعد مریم جمیلہ نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور یہاں‌ آکر تہذیب و معاشرت کو قبول کر لیا۔ انھوں نے اردو زبان بھی سیکھ لی تھی۔ 1963ء کو ان کا نکاح محمد یوسف خاں صاحب سے پڑھایا گیا۔

مریم جمیلہ نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر انگریزی میں چھوٹی بڑی 34 کتابیں لکھیں۔ ان کی تصنیف کردہ کتابوں میں از ویسٹرن سویلائزیشن یونیورسل، اسلام ان تھیوری اینڈ پریکٹس، اسلام اینڈ اورینٹل ازم، اسلام اینڈ موڈرن ازم اور اسلام ورسز دی ویسٹ سرفہرست ہیں۔

عرب معاشرت اور اسلام میں نوعمری ہی میں کشش محسوس کرنے والی مریم جمیلہ نے پاکستان میں 31 اکتوبر 2012ء کو سفرِ‌ آخرت اختیار کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں