The news is by your side.

Advertisement

چوہدری شوگرمل کیس ، مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع

لاہور : چوہدری شوگرملز کیس میں احتساب عدالت نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور یوسف عباس کے جوڈیشل ریمانڈمیں 14روز کی توسیع کر دی اور دونوں ملزمان کو 23 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت کے جج جوادالحسن چوہدری نے چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت کی ، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور اُن کے کزن یوسف عباس کو عدالتی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔

مریم نوازکی پیشی پر لیگی کارکنوں نے عدالت کے باہر اور کمرہ عدالت کےاندر نعرے بازی کی ، اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس اور اطراف خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات ہیں۔

مریم نواز کیخلاف چوہدری شوگرملزکیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے مریم نواز کےساتھ سیلفیاں لینے پراظہار برہمی کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں تمام لوگوں کو فون بند کرنے کاحکم دے دیا۔

مریم نوازکے وکلا نے سائیڈروم میں مشاورت کی اجازت کی درخواست کی، جس پر عدالت نے کہا ملاقات کر لیں مگریقینی بنایا جائے کوئی دوسرا نہ ہو، غیر متعلقہ افراد ملاقات میں گئے تو ذمہ دار وکلاہوں گے۔

لاہور:عدالت نے ن لیگی کارکنوں کے شور شرابے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ہدایت کی سیکیورٹی اہلکار سب کو باہر نکالیں ، کیا یہ لوگ میری عدالت کا ریکارڈ تباہ کرنا چاہتے ہیں ، تمام غیر متعلقہ افراد کو باہر نکالا جائے۔

عدالت نے کہا کیا کوئی پولیس افسر موجود ہے یا سب بکری بنے کھڑےہیں اور مریم نواز کی وکلا سے ملاقات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا جتنی ملاقات ہوناتھی ہوگئی سب کو باہر نکالا جائے۔

احتساب عدالت نے مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14روز کی توسیع کر دی اور دونوں ملزمان کو 23 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

گذشتہ سماعت میں عدالت نے مریم نواز کے مزید جسمانی ریمانڈکی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مریم نواز اور یوسف عباس کو 9 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا۔

مزید پڑھیں : احتساب عدالت نے مریم نوازاوریوسف عباس کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا

مریم نواز اور یوسف عباس نے درخواست کی تھی کہ انھیں کوٹ لکھپت جیل بھجوایا جائے تاہم عدالت نے قراردیا کہ اس سلسلے میں جیل حکام فیصلہ کریں گے۔

یاد رہے 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگرملز منی لانڈرنگ کیس میں مریم نوا ز کو تفتیش کے لئے بلایا گیا تھا لیکن وہ نیب دفترمیں پیش ہونے کے بجائے والد سے ملنے کوٹ لکھپت جیل چلی گئیں تھیں، تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہونے پر نیب ٹیم نے انھیں یوسف عباس کو گرفتار کرلیا تھا۔

نیب کے تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھاکہ مریم نواز، نوازشریف اور شریک ملزموں نے2000ملین کی منی لانڈرنگ کی، ملزمان کےاثاثے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں