The news is by your side.

Advertisement

مریم نواز نے شہبازشریف کو وزرات عظمی کے لیے پارٹی امیدوار قرار دے دیا

اسلام آباد : مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازنے شہبازشریف کووزرات عظمی کےلیے پارٹی امیدوارقرار دیتے ہوئے پیغام دیا کہ اب آپ کو بچانے کوئی نہیں آئے گا، گیم اوور۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج کل نیوٹرل لفظ کابڑاچرچہ ہے، اس ایک لفظ نے ایک شخص کی ہوا نکال دی ہے، اس ایک لفظ سے آپ کی 22سالہ جدوجہد اور جماعت زمین پر آگری، نیوٹرل کے لفظ سے آپ کی جماعت کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ حال تو ہم نے کسی تانگا پارٹی کا بھی نہیں دیکھا، آپ نے پوری کوشش کی کہ سازش کرکے سامنے آئیں، آپ نے ایف آئی اے،نیب کو نیوٹرل نہیں رہنے دیا، آپ کی گنتی کہیں بھی پوری نہیں ہے، کوئی نیوٹرل ہے تو آپ جانور کہہ کر دنیا کوکیا پیغام دیناچاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا سیخ پا ہوکر مچھلی کی طرح تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کو یہ معلوم ہے کہ یہ گیم ہار چکے اور اگلا الیکشن بھی ہاریں گے ، اب آپ کو بچانے کوئی نہیں آئے گا آپ کی گیم اوور۔

پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے ن لیگ کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ 10بندے پورے نہیں ہورہے 10لاکھ بندوں کی بات کررہےہیں، کہتے ہیں میرے خلاف چور مل گئے انٹرنل اور انٹرنیشنل سازش ہورہی ہے، 10بندے پورے کرو 10لاکھ جمع کرنے کی محنت نہیں کرنی پڑےگی۔

مریم نواز نے کہا کہ آپ کے ہاتھ سے ریت نکل گئی تو اب کس پر الزامات لگارہےہیں، مہنگائی کے بارے میں سوچا ہوتا تو آج آپ کو یہ دن نہ دیکھناپڑتا۔

وزیراعظم کے بیانات کے حوالے سے ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کہتے ہیں ہمارے بندے خریدے ہیں، جو وزیراعظم ہوتے ہوئے آپ کو چھوڑ کر جارہےہیں انھیں خریدنے کی کیا ضرورت، کوئی نہیں بھولاکہ آپ نے اقلیت کو اکثریت میں بدلا ، آپ نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریٖڈنگ کی ، کیا اس وقت جائز تھی، آپ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کہہ رہےہیں کہ آجاؤ معاف کردوں گا، ایک طرف بکاؤ اور لوٹا کہہ رہے ہیں دوسری طرف ہاتھ جوڑ رہےہیں۔

انھوں نے کہا کہ نوازشریف نے باہر بیٹھ کر آپ کو گھر میں گھس کر مارا ہے، آج آپ کو ایک ایک دو دو سیٹ والوں کے گھر پر حاضری دیناپڑرہی ہے، کوئٹہ میں لاشیں پڑی تھیں اور آپ کہتے تھے میں بلیک میل نہیں ہوں گا، مری میں لوگ برف تلے دبے ہوئے تھے کوئی پوچھنےوالا نہیں تھا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج آپ کسی سازش نہیں بلکہ مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں، کسی ملک کو آپ کیخلاف سازش کی ضرورت نہیں ،آپ خودہی کافی ہیں،مریم نواز

ن لیگی نائب صدر نے وزیراعظم کی تقریر سے متعلق کہا کہ کل آپ نے بھارت کی خودمختاری کی تعریف کی ، کچھ دیر پہلے آپ بائیڈن کی کال کا انتظار کررہے تھے ،بائیڈن کی کال نہیں آئی تو آپ کو خودمختاری یاد آگئی ، امریکا میں کشمیر کا مقدمہ ہار کر آئے اورکہتے ہیں ورلڈکپ جیت کر آیا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر ملک اور دوست ممالک کو بھی ناراض کردیا، دوسرے ملکوں نے تحائف دیئے وہ آپ 5ملین میں بیچ آئے، اپنی ناکامی ، نالائقی کو سازش کا نام دینگے تو دنیا ہنسے گی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ایک ایک بات سے شکست جھلتی ہے ، عمران خان کے الزام لگانے کا نہیں حساب دینے کا وقت ہے، عمران خان کو پتہ ہوناچاہیے کہ اب عوام نے ریڈکارڈ دکھا دیاہے، آج صرف پونے 4 سال بعد عوام نوازشریف کو آواز دے رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوازشریف کیساتھ زیاتی ہوئی،ذاتی اورسیاسی قیمت چکانی پڑی ، نوازشریف نے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا، عمران خان یہ دھمکیاں اپوزیشن کو نہیں کسی اور کودے رہےہیں، ہم بھی انھی مرحلوں سے گزر کر آئے مگر کبھی گالم گلوچ ،بازاری زبان استعمال نہیں کی۔

ن لیگی رہنما نے سوال کیا عمران خان بتائیں کون سی نیکی ہے جس کا آپ عوام کو حکم دےرہےہیں ، آپ جلسوں میں بدتمیزی ، بدتہذیبی کرتے ہیں ، مولانا صاحب سینئر سیاستدان ہیں اختلاف ہوسکتا ہے مگر القاب بگاڑے جاتےہیں، بلاول کی نقل اتارتے ہیں تو آپ مسخرے لگتے ہیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ جو شخص دوران حلف خاتم النبین ﷺنہیں پڑھ سکتا وہ دوسروں پر الزام کیسے لگا سکتاہے، نیوٹرل کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ کی کوئی نہیں سن رہا، عدم اعتماد نیوٹریلٹی سے کامیاب ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تہذیب کے دائرےمیں رہ کر بات کریں ، جو کام تم کرچکے ہو اسی وجہ سے تمہارا آج یہ حال ہواہے، بازاری زبان،گالم گلوچ سے نہیں تہذیب کی زبان استعمال کریں ، آپ کے چہرے پرایسے ایسے تھپڑ پڑے ہیں کہ اب منہ دکھانے کے لائق نہیں،مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ پولیٹیکل پولرائزیشن بہت بڑھ گئی ہے ، ہمیں سب کو ساتھ لیکر چلناہے، عمران خان نے سیاسی پولرائزیشن کوفروغ دیا اس کا سدباب کرناہے، نوازشریف کی جماعت چٹان کی طرح کھڑی ہے، ہمارے امیدوار شہبازشریف صاحب ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں