The news is by your side.

Advertisement

مریم نواز 26 مارچ کو ایک بار پھر ریلی کی شکل میں نیب آفس جائیں گی

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز 26 مارچ کو ایک بار پھر ریلی کی شکل میں نیب آفس جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو نیب نے مریم نواز کو 26 مارچ کو 1500 کنال کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کیس میں طلب کیا تھا، جب کہ نیب لاہور نے انھیں اسی دن ہی چوہدری شوگر ملز کیس میں بھی طلب کر رکھا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے پیشی کے سلسلے میں اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں کی تیاری کی ہدایت کر دی ہے، مریم نواز ریلی لے کر نیب آفس جائیں گی، مریم نواز کی نیب میں پیشی کی حکمت عملی کے لیے ن لیگ کا اجلاس بھی آج طلب کیا گیا ہے۔

2015 میں پندرہ سو کنال کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کیس میں ڈی سی او اور ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے ماسٹر پلان ہی تبدیل کر دیا تھا، ملی بھگت سے ہزاروں کنال اراضی کو گرین لینڈ ایریا قرار دے دیاگیا تھا۔

نیب لاہور کے جاری نوٹس میں مریم نواز کو مطلوبہ ریکارڈ ساتھ لانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

مریم نواز کی دھمکیاں، کارکنوں‌ کو ریاستی ادارے کے خلاف اکسانے کی کوشش

26 مارچ کو نیب میں طلبی کے سلسلے میں اتوار کو مریم نواز ایک جلسے میں ریاستی ادارے کو دھمکیاں بھی دیتی رہیں، اور کارکنوں کو نیب دفتر پہنچنے کے لیے اکساتی رہیں، انھوں نے کہا یہ اتنی بری طرح ڈرے ہوئے ہیں کہ نیب کا 26 مارچ کا نوٹس دے دیا ہے، سب میرے ساتھ 26 مارچ کو نیب چل کر بتا دو کہ ظلم برداشت نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 11 اگست کو مریم نواز کو نیب لاہور نے رائیونڈ اراضی کیس سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا تاہم ان کے وہاں پہنچنے سے قبل ن لیگ کے کارکنوں اور پولیس اہل کاروں کے درمیان تصادم ہوا۔ کارکنان کی جانب سے پتھر برسائے گئے، جب کہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا تھا۔

ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں حکومت اور نواز لیگ نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی، پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا نیب کے دفتر اور پولیس پر نواز لیگ کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا اور جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں پتھر لائے گئے۔ مریم نواز نے الزام لگایا کہ ان کی گاڑی پر پتھراؤ کرنے والے پولیس کی وردی میں تھے اور اگر وہ بلٹ پروف گاڑی میں نہ ہوتیں تو نہ جانے کتنا نقصان پہنچتا۔

نیب نے ہنگامہ آرائی کے بعد مریم نواز کی پیشی مؤخر کر دی تھی البتہ وہ تصادم کے بعد بھی کافی دیر نیب کے دفتر کے باہر موجود رہیں، ان کا مؤقف تھا کہ اگر انھیں بلایا گیا ہے تو سنا بھی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں