The news is by your side.

Advertisement

مریم نوازکو لیڈر تسلیم نہیں کرتا، بچے بچے ہوتے ہیں، چوہدری نثار

اسلام آباد : سابق وزیر داخلہ اورمسلم لیگ نون کے رہنما چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ مریم نواز کو لیڈر تسلیم نہیں کرتا، بچے بچے ہوتے ہیں انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے، اختلافات کے باوجود نواز شریف کے ساتھ چلا جاسکتا ہے۔

مریم نواز اور بے نظیر بھٹو میں بہت فرق ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، چوہدری نثار نے کہا کہ مریم نواز کا کردارصرف نوازشریف کی بیٹی کا ہے، جب مریم باضابطہ سیاست میں آئیں گی، ان کا پروفائل بنے گا تو لوگ فیصلہ کرینگے، مریم نواز اور بے نظیر بھٹو میں بہت فرق ہے، بےنظیر بھٹو کا معاملہ مریم نواز سے قطعاً مختلف ہے، بےنظیر بھٹو نے ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے بعد گیارہ سال تک مصبیتیں جھیلیں۔

مخصوص وجہ پر وزارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا

چوہدری نثار نے انکشاف کیا کہ شاہد خاقان عباسی کو ان کی مشاورت سے وزیر اعظم بنایا گیا, ان کا کہنا تھا کہ مخصوص وجہ پر میں نے وزارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا، ایک خاص موقع پر بہت مایوس ہوا تو سیاست چھوڑنے کا کہہ دیا تھا.

اس بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، اس وقت مجھے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے دیں، میں نے کہا تھا کہ فیصلہ نوازشریف کےحق میں آئے یا ان کے خلاف، استعفیٰ دے دونگا، پہلے مجھے آسمان پر پہنچایا گیا، پھر تنقید شروع ہوگئی، وزارت داخلہ کس کواچھی نہیں لگتی؟

شہبازشریف پارٹی صدارت کیلئے موزوں امیدوار ہیں

چوہدری نثار کے بقول وہ نواز شریف کے بعد پارٹی کا سینیر ترین رکن ہیں، پارٹی میں گروپ بندی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ نوازشریف کے بعد شہبازشریف پارٹی صدارت کیلئے موزوں امیدوار ہیں۔ ووٹ کے تقدس پر نواز شریف کے ساتھ ہوں لیکن طریقہ کارسے متفق نہیں، میری کوشش رہی ہے کہ نوازشریف کو صحیح ان پٹ دیا جائے۔

عمران خان پرانے دوست اور شریف آدمی ہیں

چوہدری نثار نے عمران خان کو پرانا دوست اور شریف آدمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے کافی قربت رہی ہے اسکول کے زمانے سے ہم ساتھ ہیں، ہماری بہت سی چیزیں مشترک ہیں، اس بات پر پارٹی میں بھی مجھے پیٹھ پیچھے تنقید کا سامنا رہا۔

پرویز مشرف کو ہم نے باہر نہیں جانےدیا

ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے بتایا کہ پرویز مشرف کو سب سے پہلےٹرائل کورٹ نے باہرجانےکی اجازت دی، سپریم کورٹ نے بھی مشرف کو باہرجانے کی اجازت دے دی تھی، اس فیصلے کے اگلے روز مشرف نے باہر جانے کی تیاری کی، تیاری کےباوجود مشرف کو ہم نے باہر نہیں جانےدیا۔

نیشنل ایکشن پلان اور کراچی آپریشن میں نے شروع کیا

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کسی نے نہیں بلکہ میں نے بنایا، پلان کی تیاری کیلیے ایک ہفتہ ملا،5 دن میں کام مکمل کیا، وزیرستان کا آپریشن نیشنل ایکشن پلان میں نہیں ہے، اس کے علاوہ کراچی کا آپریشن فوج یا رینجرز نے نہیں بلکہ میں نے ہی شروع کیا، پہلےجنرل رضوان اختر اور پھر میجر جنرل بلال اکبر کراچی آپریشن کو اچھے طریقے سے آگے لے کرگئے۔

پاکستان کی سالمیت کو اندرونی و بیرونی دونوں خطرات لاحق ہیں

چوہدری نثار کا مزید کہنا تھا کہ آرمی چیف اگر میرا بھائی بھی آئے تو وہ پہلا کام ادارے کےمفاد میں کرے گا۔
آرمی چیف کو ادارے کیلیے بھی کام کرنا پڑتاہے اور حکومت کےساتھ بھی ۔نوازشریف کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ کوئی آرمی چیف’اپنابندا‘نہیں ہوسکتا، سول ملٹری تعلقات کو مشاورت سے بہتری کی طرف لے جا سکتےہیں، وزیراعظم سمیت 5 افراد جانتےہیں کہ پاکستان کی سالمیت کو اندرونی و بیرونی دونوں خطرات لاحق ہیں، یہ بلیک اینڈ وائٹ ہائی پروفائل انٹیلی جنس رپورٹ ہے۔

وزیر خارجہ کے بیان کے بعد ملک کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں

وزیرخارجہ کے اپنے گھر کی درستگی سے متعلق بیان سے اختلاف ہے، ایسے بیان کے بعد پاکستان کو کسی دشمن کی کیاضرورت رہ گئی، میرا بطور وزیرداخلہ سب سے رابطہ رہتا تھا، سب سےتعلقات ہیں، کبھی وزارت خارجہ کا امیدوارنہیں رہا، میں نے کبھی نوازشریف سے وزارت خارجہ کی ڈیمانڈ نہیں کی۔

 


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں