لاہور(15 فروری 2026): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس کلچر میں انقلابی تبدیلیوں کا آغاز کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اب ہر شہری کو "سر” یا "جناب” کہہ کر پکاریں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پولیس اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بحال کرنا ہے، مریم نواز نے پولیس اصلاحات کے لیے 3 ماہ کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے جامع پلان طلب کر لیا ہے۔
پنجاب میں شکایات کے فوری ازالے کے لیے تھانوں کے باہر 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے، جبکہ پنجاب بھر میں 14 ہزار باڈی کیم متعارف کرائے جائیں گے۔ ہر پولیس اسٹیشن کے 10 اہلکار باڈی کیم پہننے کے پابند ہوں گے۔
ایف آئی آر کی ٹریکنگ اور کاغذات یا شناختی کارڈ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے کے لیے آن لائن سسٹم متعارف کرایا جائے گا، انویسٹی گیشن کے عمل کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ انہوں نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ وہ خود شہریوں کو فون کر کے فیڈ بیک لیں۔
مریم نواز نے "اوئے” کہہ کر بلانے کے کلچر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناکوں پر کھڑے اہلکار شہریوں کی تذلیل نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی خود کو غیر محفوظ سمجھے، یہ برداشت نہیں۔ جو خواتین تھانے نہیں آ سکتیں، موبائل پولیس اسٹیشنز ان کے پاس جائیں گے۔
پنجاب بھر میں ٹریفک کو لین میں چلنے کا پابند بنایا جائے گا، جس کے لیے لین مارکنگ کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، وزیراعلیٰ نے "ٹریفک پولیس ون ایپ” اور "سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ” کا بھی افتتاح کیا، بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور بچوں کی حفاظت نہ کرنے والے والدین کے لیے بھی قوانین لانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔
مریم نواز نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں”۔ انہوں نے کرکٹ ٹیموں یا وی آئی پیز کی سیکیورٹی کے نام پر عوام کی تذلیل سے روک دیا اور ہدایت کی کہ سیکیورٹی ضرور دیں لیکن شہریوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے اختتام پر کہا کہ اگر اب پولیس ریفارمز نہ ہوئیں تو پھر کبھی نہیں ہو سکیں گی۔ انہوں نے پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے لانے اور کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سکھانے کی تجویز بھی دی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


