لاہور: پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پی پی پی اتھارٹی کے تحت روڈز کے 5 پراجیکٹس شروع کر دیے، انھوں نے روڈ پراجیکٹس کا ڈیجیٹل افتتاح کیا۔
پنجاب کی 5 اہم سڑکوں کا انتظام و انصرام نجی شعبے کے سپرد کر دیا گیا ہے، روڈ پروجیکٹس کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو منتقلی سے پنجاب حکومت کو 22 ارب روپے کا ریونیو ملے گا۔
ان پراجیکٹس میں مریدکے نارووال، شکرگڑھ نارووال، فیصل آباد رنگ روڈ، فیصل آباد ساہیانوالہ اور فیصل آباد سمندری رجانہ روڈز شامل ہیں، پی پی پی موڈ پر منتقل سڑکوں پر جدید ترین الیکٹرانک ٹول پلازے بنیں گے، اور پرائیویٹ کنٹریکٹر 7 سال کے لیے ٹول کلیکشن کا ذمہ دار ہوگا، پرائیویٹ کمپنی ہی متعلقہ روڈ کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذمہ دار ہوگی۔
وفاقی وزیر نے سکھر حیدر آباد موٹر وے ایم 6 کی تعمیر کے آغاز کی خوش خبری سنا دی
سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پراجیکٹس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہاسٹل، اسپتال، پارک، اسپورٹس گراؤنڈ اور ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹس پائپ لائن میں ہیں، اور ان پراجیکٹس میں انڈسٹریل زون میں زہریلا پانی فلٹر کرنے والے پلانٹس، پارکنگ پلازہ، ٹورازم، واٹر سپلائی اور ری سائیکلنگ بھی شامل ہیں۔
زرافہ کیفے، ٹورازم اور فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے پی پی پی موڈ پر بنیں گے، ان منصوبوں کی پراسیسنگ کا دورانیہ 2 سال سے کم کر کے 6 ماہ کر دیا گیا ہے، پنجاب میں مزید 4 اہم روڈز بھی پی پی پی موڈ پر منتقل کیے جائیں گے، جن میں بہاولپور یزمان روڈ، یزمان احمدپورشرقیہ روڈ، رائیونڈ چھانگا مانگا اور گجومتہ قصور روڈ شامل ہیں۔


