The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی نے حکومت سے محفوظ راستہ مانگا، مریم نواز کا دعویٰ

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کااعلان کرکے پھنس گئی ہے اور عوامی سپورٹ نہیں ملنے پر اور انہوں نے حکومت سے محفوظ راستہ مانگا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کااعلان کرکے پھنس گئی،عوامی سپورٹ نہیں مل رہی تھی اور انہوں نے حکومت سے محفوظ راستہ مانگا۔ اسد قیصر اور پرویزخٹک نے ایاز صادق سے رابطہ کیا، پھر ایاز صادق نے نواز شریف سے رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ یہ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر معاملات چاہتے ہیں، نوازشریف نے واضح کردیا کہ وہ کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے اور ان کے مطالبے پر انتخاب نہیں کراؤں گا، انہوں نے جو کہا ہے اس کو پورا کریں۔

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ آج اور کل پی ٹی آئی نے پھر حکومت سے رابطے کیے، آج صبح10 بجے شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور فواد چوہدری اسپیکر ہاؤس آئے۔ ان کے مطالبات کی سمری یہ تھی کہ ہم دھرنے کا اعلان کر بیٹھے ہیں، سمری یہ تھی کہ ہمیں کوئی سیف ایگزٹ دیا جائے۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ 25 لاکھ لوگ آرہے ہیں،30 لاکھ لوگ آرہے ہیں، جلسوں میں ایک ہی بات ہورہی تھی کہ نئےالیکشن ہوجائیں گے، لیکن آج پاکستان کے کسی ضلع سےآج 200لوگ نہیں نکلے، عمران خان کیا ہمیں بھی مایوس ہوئی کہ یہ 200 لوگ جمع نہیں کرسکے، کے پی سے بھی انہیں مایوسی ہوئی، کے پی والوں نے بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے انقلاب کی کوشش کو مسترد کردیا ہے۔ عوام نے جو زناٹے دارتھپڑ مارا ہے اسے دیکھ کر بنی گالہ میں خاموش بیٹھ جاؤ اور  اہلیہ کیساتھ اللہ اللہ کرو۔

انہوں نے کہا کہ قوم کی خواتین اور معززین کو سلام پیش کرتی ہوں، قوم سمجھ گئی ہے کہ عمران خان جیسے فتنےکا ساتھ نہیں دینا، پاکستان کے جیسے حالات ہیں اس وقت ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے، پاکستان کےعوام کو وہ حکومت مل گئی ہے جس کے سربراہ نواز شریف ہیں، نوازشریف، شہباز شریف کے پاس بہترین ٹیم ہے، شہباز شریف کو کام کرنے دیا گیا تو ملک کو مشکلات سے نکال لیں گے، فتنے کا کام تمام ہونے کے بعد امید ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام آئے گا اور پاکستان کی حکومت کو ترقی کیلئے سپورٹ ملے گی۔

مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو آیا ہمارے لیے سر آنکھوں پر ہے، اس فیصلے میں ان کے لیے سیف ایگزٹ تھا، لیکن فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ردعمل شروع ہوگیا، ان کے وکیل نےکہا ہمیں وہ گراؤنڈ دیں جہاں 10 ہزار لوگ آتے ہیں، یہ وہ جگہ اس لیے مانگ رہے تھے کہ وہاں ان کی کچھ عزت رہ جائے،

انہوں نے کہا کہ اداروں اور عدلیہ کو کئی دن سے کہہ رہی ہوں کہ جو کوئی آپ کو گالیاں اور دھمکیاں دے گا تو اسی کے حق میں فیصلے دینگے، عمران خان جیسے فتنے کو فیڈ نہیں کرنا چاہیے، فتنےکو ایسے ہی ڈیل کرنا چاہیے جیسے قرآن نے حکم دیا ہے۔

مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کی کرپشن کے سب معاملات کو حکومت دیکھ رہی ہے، جیسے ہی لانگ مارچ سے فارغ ہوتے ہیں ان کیسز کو دیکھیں گے، اس وقت جو بھی صورتحال ہے اس کا ذمے دارعمران خان ہے، ادارےآئین میں رہیں گے سیاسی مداخلت نہیں کرینگے تو اچھا فیصلہ ہے، کیونکہ جس کوایک پیج کی ضرورت تھی وہ ایک ہی شخص عمران خان تھا۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ میری نظر میں اس حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، کیونکہ کسی بھی حکومت کو 5 سال پورے کرنے چاہئیں، کسی کی دھونس دھمکی پر الیکشن نہیں کراسکتے، آزادی اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں ہے، مینڈیٹ چھیننے کا بدلہ آج پنجاب نےعمران خان سے چکتا کیا ہے، پی ٹی آئی آخری حد تک جائے گی کیونکہ ان کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔

ن لیگ کی نائب صدر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران حریت رہنما کو بھارتی عدالت کی جانب سے جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا دینے کی سخت مذمت بھی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں