The news is by your side.

Advertisement

مریم نواز کی دستاویزات میں چھوٹی سی غلطی نے شریف خاندان کے سارے ثبوتوں کا پول کھول دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کی دستاویزات میں سے ایک ایسی چھوٹی سی غلطی پکڑی، جس نے شریف خاندان کے سارے ثبوتوں کے پرخچے اڑا دیے۔

تفصیلات کے مطابق پامانا کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کے قابل اور لائق تحسین اراکین نے شریف خاندان کی پیش کردہ دستاویزات میں وہ باریک غلطی ڈھونڈھ نکالی، جسے شاید اسکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کار بھی نہ پکڑ پاتے۔

جے آئی ٹی کے مطابق مریم نواز کی پیش کردہ معاہدے کی دستاویزات ایم ایس ورڈ کے فونٹ کیلیبری میں ٹائپ کی گئیں تھیں اور ان پر سال دو ہزار چھ تحریر تھا۔

مائیکروسوفٹ کے مطابق کیلیبری فونٹ 30 جنوری 2017 میں ریلیز کیا گیا یعنی حیرت انگیز طور پر یہ فونٹ اپنے ریلیز سے ایک سال پہلے ہی استعمال ہوگیا۔

اس کی مزید تصدیق مائیکروسوفٹ سپورٹ سینٹر نے واٹس اپ میسیج میں کی اور فونٹ بنانے والی عالمی تنظیم کے صدر نے بھی فونٹ کے عام صارفین کے استعمال کی تاریخ کنفرم کی۔


مزید پڑھیں : رپورٹ مسترد کرتی ہوں، مخالفین ہمارے ثبوتوں کی ٹرالی دیکھیں، مریم نواز


یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کردیا اور کہا ہے ہمارے ثبوتوں کی ٹرالی دیکھ لیں۔

مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، ہر تضاد کا مقابلہ نہیں کریں گے لیکن سپریم کورٹ میں آنے کا فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں کل پیش کی جانے والی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف فیملی کاروبار سے فائدہ اٹھاتے رہے، گوشواروں میں غلط بیانی کی، مریم نواز آف شور کمپنیوں نیلسن اور نسکول کی مالک ہیں، شریف فیملی ذرائع آمدن ثابت نہیں کرسکا، مجرم تصور کیا جائے۔

پورٹ میں لکھا گیا ہے کہ قیمتی تحائف اور قرض کی شکل میں رقوم نوازشریف اورحسن نواز نے وصول کیںک، کمپنیاں واضح طورپر خسارے میں تھیں۔ یہ بات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے کہ قیمتی جائیدادیں کاروبار سے خریدی گئیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں