The news is by your side.

Advertisement

حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے پر مریم نواز کا بیان

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہونے پر اہم بیان جاری کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے لکھا کہ پنجاب کے بھائیو اور بہنو! 2018 میں آپ سے چھینا گیا مینڈیٹ لوٹا دیا ہے۔

مریم نواز نے لکھا کہ آپ کی ترقی کا سفر وہیں سے شروع ہوگا جہاں سے رکا تھا، پنجاب کے بھائیو اور بہنو! آپ کا حق آپ کو ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کا حق لاہور سے چلنے والی مال گاڑی سے بنی گالہ نہیں جائے گا۔

قبل ازیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نئے وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے واک آؤٹ کیا گیا۔ حمزہ شہباز نے 197 ووٹ حاصل کیے اور وہ پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت آج ساڑھے 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم پہلے حکومتی اراکین کے اسمبلی ہال نہ پہنچنے کے باعث اجلاس تاخیر کا شکار ہوا۔

اسمبلی اراکین کو ایوان میں بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی رہی ہیں لیکن سخت سکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود حکومتی خواتین اراکین اسمبلی میں اپنے ساتھ لوٹے بھی لے آئیں اور انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگانا شروع کر دیے جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

پرویز الٰہی تشدد سے زخمی

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری پرویز الٰہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کے کہنے پرسب دوڑے آئے اورمجھ پرحملہ کیا۔

پرویز الٰہی نے کہا کہ اسپیکر کے ساتھ یہ ہوا ہے یہ شریفوں کی جمہوریت ہے، حمزہ شہباز اور نواز شریف کے کہنے پر میرے ساتھ یہ سب کیا گیا۔

دوست محمد مزاری پر تشدد

بعد ازاں جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ہال میں پہنچے تو حکومتی اراکین کی جانب سے ان کی جانب لوٹے اچھالےگئے اور ان کی ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا، حکومتی اراکین کی جانب سے دوست محمد مزاری کو تھپڑ مارے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، سکیورٹی اسٹاف اور اپوزیشن اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو حکومتی اراکین سے بچایا جس کے بعد وہ واپس اپنے دفتر میں چلے گئے۔

اینٹی رائیٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی میں داخل

اینٹی رائیٹ فورس کے اہلکار پنجاب اسمبلی میں داخل ہوگئے اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا، مزاحمت کرنے والے 3 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

پولیس اہلکارپرانی بلڈنگ کے راستے پنجاب اسمبلی میں داخل ہوئے،پولیس نے ایوان کے اندر آپریشن کرتے ہوئے مردو خواتین ایم پی ایزکو اسپیکرڈائس سے ہٹایا اور اسپیکر ڈائس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

پولیس اہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی ہیں ،حکومتی ارکان اور پولیس میں جھگڑا بھی ہوا ، اس دوران 3 حکومتی ایم پی ایز کو حراست میں بھی لے لیا گیا، ان ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پرتشدد بھی کیا تھا۔

اس دوران اسمبلی کے سکیورٹی اسٹاف کی جانب سے ارکان اسمبلی کو ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں