site
stats
پاکستان

پٹیشن پاناما کی، فیصلہ اقاما پر، مریم نوازکےٹوئٹ میں عدالت پرطنز

maryam

لندن : سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اعلیٰ عدلیہ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو نکالنےکیلئے پٹیشن پاناماکی، فیصلہ اقاما پر، انہوں نے کہا کہ آج ثابت ہوگیا کہ نوازشریف کے پیچھے پوری پارٹی متحد ہوکر کھڑی ہے۔

یہ بات انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے تازہ پیغام میں کہی،تفصیلات کے مطابق مریم نواز جو آج کل ٹوئٹر کے محاذ پر کافی سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔

انہوں نے سپریم کورٹ پر کھل کر طنز کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے موقع پر اعلی عدلیہ کے ججز اور اکرم شیخ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس لگائے ہیں۔

جس میں لکھا ہے کہ ’’جس تناظرمیں بات ہوئی اسی تناظرمیں پڑھیں،چیف جسٹس‘‘ جس کے جواب مریم نواز نے لکھا کہ ’’جی! جیسے پاناما کے تناظر میں اقاما پر نااہلی،‘‘

ایک اور ٹوئٹ میں دکھایا گیا کہ ’’جوآپ کہہ رہے ہیں وہ آپ کی پٹیشن میں نہیں،چیف جسٹس کےریمارکس‘‘ جس پر انہوں نے لکھا کہ ’’لیکن نوازشریف کو نکالنے کیلئےپٹیشن پاناما کی، فیصلہ اقاما پر‘‘ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر 6 اعشاریہ 5 فیصد رقم کی ٹریل ثابت نہ ہونا کوئی جرم نہیں تو نوازشریف کے ظاہر کردہ اثاثوں میں دس ہزار درہم کا اوسط کیوں نہیں نکالا گیا؟

مریم نواز نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں نواز شریف کو مسلم لیگ کا بلامقابلہ صدر منتخب کرنے کے حوالے سے کہا کہ آج ثابت ہوگیا کہ نوازشریف کے پیچھے پارٹی متحد ہوکر کھڑی ہے۔

نوازشریف کے پارٹی صدر بننے سے خوف میں مبتلا لوگوں کو تکلیف ہے، یہ تکلیف ان لوگوں کو ہے جن کا نون لیگ سےدور کا بھی تعلق نہیں ہے، نوازشریف کے مخالف ان کے چاہنے والوں کے آگے بےبس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتنے بے بس ہیں کہ وہ نواز شریف کیخلاف کتنے ہی منصوبے بنا لیں مگر کامیاب نہیں ہوتے جبکہ وہ پاکستانی سیاست پر مسلسل راج کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو نکالنے کیلئےجمہوری آئین کو آمرکا آئین بنادیا گیا، ڈکٹیٹر کی بنائی ہوئی ایک شق ختم کرنے پرشور مچایا جارہا ہے۔

دخل اندازی کرنیوالے پہلے اپنے پارٹی معاملات پرتوجہ دیں اور اپنی جماعت کو عوامی جماعت بنا کر دکھائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top