The news is by your side.

Advertisement

والدہ کی بیماری کا علم نہیں تھا ورنہ120 سے امیدوار ہوتی، مریم نواز

لاہور : سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ والدہ کی بیماری کا علم نہیں تھا ورنہ این اے ایک سو بیس سے امیدوار ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی حلقہ این اے 120 میں انتخابی مہم جاری ہے، مریم نواز کا کہنا ہے کہ ڈرنے والے نہیں اور نہ ہی ہم پیچھے ہٹیں گے، والدہ کی بیماری کاعلم نہیں تھاورنہ این اے120سےامیدوارہوتی۔ ڈیڑھ سال اقامہ کا کیس چلا اور اختتام اقامہ کے نام پر کردیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ چاہتی ہوں والد اور پارٹی کی معاونت کرتی رہوں، کہانی وقت سنائے گا، مہروں کے نام لینےکی ضرورت نہیں، مہرے نوازشریف کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتے، مہرے کبھی اداروں کبھی سازشوں کے پیچھے چھپتےہیں، سازشی مہروں کا سب کو پتہ ہے ،باقی سب وقت بتائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ مخالفین نوازشریف کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہیں کرسکتے، سابق وزیراعظم نوازشریف جلدواپس آئیں گے، چھوٹے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہلی کردی گئی، عدلیہ کے بھی اچھے اور برے وقت مستقبل میں یاد رکھے جائیں گے۔


مزید پڑھیں : لاہور والے 17 ستمبر کو نواز شریف کی نااہلی مسترد کردیں گے، مریم نواز


یاد رہے کہ اس سے قبل مریم نواز کا حلقے 120 کی ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران کہنا تھا کہ لاہور کے عوام 17 ستمبر کو گھروں سے باہر نکلیں گے اور دنیا کو بتادیں گے کہ عوام نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے، یہ شہر کل بھی نواز شریف کا تھا اور آج بھی صرف نواز شریف کا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاناما، اقامہ اور نااہلی سب ڈرامہ ہے جس کے خلاف سب لوگ 17 ستمبرکو نکلو اور دنیا کو بتا دو کہ تم ظلم اور ناانصافی کو نہیں مانتے اور آج بھی اپنے محبوب قائد کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو۔

خیال رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کی پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کے سبب اُن کے انتخابی حلقے این اے 120 میں ضمنی الیکشن 17 ستمبر کو ہونے جا رہے ہیں جہاں اہلیہ نواز شریف کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں تاہم گلے کے کینسر کے علاج کے باعث وہ لندن میں مقیم ہیں اور مریم نواز اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلا رہی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں