site
stats
پاکستان

انصاف کاتماشہ نہ بنائیں، سزاسنانی ہے تو سنادیں ،روز روز کی پیشیاں نہ کریں، مریم نواز

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ انصاف کاتماشہ نہ بنائیں، سزاسنانی ہے تو سنا دیں ، روز روز کی پیشیاں نہ کریں، احتساب کوانتقام بنانےوالوں کابھی احتساب ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد کمرہ عدالت سے باہر آکر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کرپشن ریفرنسز میں فرد جرم عائد ہونے پر پھٹ پڑیں اور کہا کہ انصاف کاتماشہ نہ بنائیں، جے آئی ٹی کافراڈپکڑا گیا یانیب زندہ ہوگیا ہے، فیصلہ پہلے آگیا ٹرائل بعد میں ہورہا ہے، ہم بھاگنےوالوں میں سےنہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ والدہ کالندن میں علاج ہورہاہے، ہم قانون اور عدالتوں کے احترام میں وطن واپس آئے، صبر،امید اور حوصلے کے ساتھ ٹرائل کاسامنا کررہے ہیں، 1999میں عدالتوں کا سامنا کیا تھا، یہ سب نیا نہیں، دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہورہا ہے، ایک خاندان کے ٹرائل کوتماشا نہ بنایا جائے۔

نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جوبیرون ملک سے واپس آئے ، بڑے بڑے ڈبوں والے ثبوت کہاں گئے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ناانصافی اور ظلم چلتارہے، روزروزکی پیشیوں سے قوم کا وقت ضائع ہونے سے بچائیں، ایک ہی بار سزا سنا دیں ،روز روز کی پیشیاں نہ کریں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ قانون اور آئین کا تماشا نہ بنایا جائے ، ہمیں توڑنےکی خواہش والےخود ٹوٹ رہےہیں، فیملی میں کوئی اختلاف نہیں،اختلاف رائے ضرورہوسکتا ہے، پارٹی میں کسی کونوازشریف کےفیصلوں پراختلاف نہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ امید ہے جنہوں نے انتقام کواحتساب بنایا ان کا بھی احتساب ہوگا۔ انصاف ہوتاہوانظرنہ آئےتوانصاف کیلئےآوازاٹھاناہماراحق ہے۔


مزید پڑھیں : ایون فیلڈریفرنس میں نوازشریف،مریم نواز،کیپٹن صفدرپرفردجرم عائد


اس سے قبل ایون فیلڈریفرنس میں نوازشریف، مریم نوازاور کیپٹن ریٹائرڈ صفدرپر فردجرم عائد کردی گئی، ملزمان نےصحت جرم سےانکارکردیا جبکہ احتساب عدالت میں باقی دو ریفرنسز سے متعلق فیصلہ دو بجے سنایا جائے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top