مشعال خان قتل کیس میں 33 عینی شاہدین کے بیانات قلم بند -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال خان قتل کیس میں 33 عینی شاہدین کے بیانات قلم بند

ہری پور: انسداد ِدہشت گردی کی عدالت نے مشعال خان قتل کے مزید پانچ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جس کے بعد حلفیہ بیان دینے والوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ہری پور کی سنٹرل جیل میں مشعال خان نامی صحافت کے طالب علم کے قتل کیس کی سماعت کررہی ہے ‘ جسے مجمع میں بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا تھا۔

مشال خان کی بہنوں کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل*

ذرائع کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران اے ٹی سی کے جج فضل سبحان نے 25 ملزمان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور یہ فیصلہ 20 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ 23 سالہ مشعال مردان میں ولی خان یونی ورسٹی کا طالب علم تھا‘ اسے رواں سال 13 اپریل کو بھپرے ہوئے یونی ورسٹی کیمپس میں طالب علموں کے جمِ غفیر نے بدترین تشدد کرنےکے بعد گولی مار کر قتل کردیا تھا۔ اس کے بارے میں افواہ پھیل گئی تھی کہ مشعال نےاہانتِ مذہب پر مبنی کچھ مواد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ہے۔

مشال خان پرجھوٹا الزام لگایا گیا، جے آئی ٹی*

بعد ازاں واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق جواں سال طالب علم مشال خان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اہانت مذہب کا جھوٹا الزام لگا کرقتل کیا گیا‘ جس کے لیے مشتعل ہجوم کے جذبات کو بھڑکایا گیا۔ اس سازش میں کچھ یونیورسٹی ملازمین اورسیاسی جماعت کے مقامی رہنما شامل تھے۔

جے آئی ٹی میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے دوران پولیس کے کردارپربھی سوالیہ نشان ہے جس نے بروقت کارروائی نہیں کی اور طالب علم مشال خان کو بچانے کی کوشش نہیں کی اس لیے جےآئی ٹی نے اپنی سفارشات میں لکھا ہے کہ غفلت کے مرتکب افسران اوراہلکاروں کی نشاندہی کی جائے۔

مشعال خان قتل پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جو مشعال کے ساتھ ہوا‘ کسی اسلامی ملک میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں