مشعال کیخلاف نوٹیفکیشن قتل کے بعد جاری ہوا، پروفیسر فیاض کا اعتراف -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال کیخلاف نوٹیفکیشن قتل کے بعد جاری ہوا، پروفیسر فیاض کا اعتراف

اسلام آباد : مردان یونیورسٹی میں مشتعل افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشعال خان کے حوالے سے یونیورسٹی کے پروفیسر فیاض علی شاہ نے کہا ہے کہ مشعال خان کے قتل کے بعد اس کےخلاف نوٹیفکیشن جاری ہوا، ہمیں اس وقت واقعے کی معلومات نہیں تھیں۔

اس بات کا اعتراف انہوں نے اے آر وائی نیوزکے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا، پروفیسرفیاض شاہ نے یہ بھی اعتراف کیا کہ مشعال خان کےخلاف نوٹیفکیشن میں غلطیاں ہیں۔

اسسٹنٹ رجسٹرار نےغلطی سے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم میٹنگ میں تھے تو پتہ چلا کہ مشعال کو قتل کردیا گیا ہ، مشعال کیخلاف نوٹیفکیشن پراسسٹنٹ رجسٹرارسے وضاحت طلب کرلی گئی ہے۔

بھائی کو قتل کرنے والے مسلمان نہیں، بہن مشعال خان

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مقتول مشعال کی ہمشیرہ نے کہا کہ مشعال خان ہمارے گھرکا چراغ تھا جسے بے دردی سے بجھا دیا گیا، اس کی لاش دیکھی تو اس کا چہرہ بدل چکا تھا، بھائی کو بےدردی سے قتل کرنے والےمسلمان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشعال خان کے قاتلوں کوسخت سےسخت سزادی جائے، بھائی کوجیسےمارا گیا قاتلوں کو بھی ویسے ہی سزادی جائے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھائی نے یونیورسٹی میں ہونے والے کسی مسئلے کا ذکر کبھی نہیں کیا
لاش کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا، علاقے میں بھائی کی نمازجنازہ نہ پڑھانے کا اعلان بھی ہوا تھا۔

کسی کو بھی سزا دینے کا اختیار صرف ریاست کو ہے، مفتی نعیم

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ مشعال خان کو جھوٹے الزام کی بنیاد پر بےدردی سے قتل کیاگیا، اسلام محض الزام کی بنیاد پر کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا، انہوں نے کہا کہ اور الزام سچا یا جھوٹا ہونے کی انکوائری ریاست ہی نے کرنی ہوتی ہے، الزام ثابت بھی ہوجائے تو بھی سزا دینا صرف ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست کسی کو سزانہیں دے رہی کئی کیسزالتوا کا شکار ہیں، مفتی نعیم نے کہا کہ مشعال خان کو قتل کرنے والے ظالم ہیں، اس کو بغیر تحقیقات کے بے دردی سے قتل کیا گیا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شہریارآفریدی نے کہا کہ جب ریاست جزا اورسزا نہ دے تو المیہ ہونا کوئی انوکھی بات نہیں۔ جبکہ مفتی حنیف قریشی کا کہنا تھا کہ ریاست نے ہرچیزمیں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں