site
stats
پاکستان

بیٹیوں کی جان کو خطرہ ہے، اسلام آباد میں رہائش اور تعلیم دلوائی جائے، اقبال خان

اسلام آباد : مشال خان کے والد اقبال خان نے سپریم کورٹ سے استدعا میں کہا ہے کہ میری اور اہل خانہ کی جانوں کو خطرہ ہے اب خیبر پختونخواہ میں رہنا ناممکن ہوگیا ہے اس لیے سیکیورٹی فراہم کی جائے اور اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق مشال خان کے والد اقبال نے سیکیورٹی فراہم کرنے اور اسلام آباد میں رہائش کے انتظامات کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کو حکم جا ری کرنے کے لیے آج سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرادی ہے۔


*مشعال کہیں بھی ملے اسے قتل کردو


مشال خان کے والد نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اہل خانہ کو جان کا خطرہ ہے میری بیٹیاں تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہی ہیں اور وہ خود اپنے کام کے سلسلے میں سفر نہیں کر پارہے ہیں اس لیے اہل خانہ کو اسلام آباد میں رہائش دی جائے۔


*مشال خان پرجھوٹا الزام لگا کرمنصوبہ بندی سے قتل کیا گیا، جے آئی ٹی


درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ مشال کی ایک بہن کومیڈیکل کالج میں داخلے کےاحکامات دیئے جائیں جب کہ ان کے ایک اور بیٹے ایمل خان جو کہ پاک فضائیہ میں بہ طور سول کلرک کام کر رہے ہیں انہیں بھی وہاں کافی مشکلات اور دباؤ کا سامنا ہے اس لیے حکومت ان مسائل کی جانب توجہ دے۔


*مشال کے خلاف توہین رسالت کا کوئی ثبوت نہیں ملا، آئی جی


بعد ازاں مشال کے والد نے اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آور میں صدف عبدالجبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشال کےقتل کےبعدسےبچیاں یونیورسٹیاں نہیں گئیں، سپریم کورٹ میں بچیوں کی تعلیم سےمتعلق سوال اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے ایسے حالات میں بیٹیوں کو پڑھنے کے لیے یونیورسٹی نہیں بھیج سکتے، حکومت کی جانب سےتحفظ چاہتےہیں۔

مشال کے والد نے کہا کہ عمران خان نےکہا تھا ہم جنگل کاقانون نہیں بننےدیں گے، اُن کے بیان پران کاشکریہ اداکرتےہیں، میں نے کبھی تحریک انصاف کے چیئرمین یا صوبائی و وفاقی حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کیا تاہم خیبرپختونخواہ حکومت کی جانب سے خاندان کی سیکیورٹی کے لیے 2 پولیس اہلکار دیے گئے ہیں۔

خیال رہے رواں سال 13 اپریل کوعبد الولی خان مردان یونیورسٹی میں 23 سالہ ہونہار طالب علم مشال خان کو اہانت رسالت کا الزام لگا کرمشتعل ہجوم نے بے دردی کے ساتھ قتل کردیا تھا جس کی تحقیقات کے لیے تیرہ رکنی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے مشال خان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ، ملازمین ، پولیس اور سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top