site
stats
پاکستان

پشاور:یونیورسٹی سے مشعال خان کا سامان لواحقین کے حوالے

پشاور:یونیورسٹی سے مشعال خان کا سامان لواحقین کےحوالے کردیا گیا، سامان میں کپڑے ، جوتے ، کتابیں اور بیگ شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مشعال خان کا سامان لواحقین کےحوالے کردیا گیا، مشعال کے والد کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد مشال کا سامان ہمارےحوالے کیا گیا، مشعال خان کے قتل کے بعد کمرے میں لوٹ مار بھی کی گئی ، سامان سےلیپ ٹاپ ، کیمرہ ، موبائل،آئی ڈی کارڈ غائب ہیں۔

مشعال کے والد کا مزید کہنا تھا کہ مشعال کی زندگی پر مشتمل ذاتی ڈائری بھی موجود نہیں ، جے آئی ٹی نے غائب سامان کی تلاش کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مشال خان کی جیب سے برآمد 270 روپے بھی والد کے حوالے کئے گئے۔

یاد رہے مشال خان قتل کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی تھی ، جس کے مطابق طالب علم مشال خان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اہانت مذہب کا جھوٹا الزام لگا کرقتل کیا گیا جس کے لیے مشتعل ہجوم کے جذبات کو بھڑکایا گیا اس سازش میں کچھ یونیورسٹی ملازمین اورسیاسی جماعت کے مقامی رہنما شامل ہیں۔


مزید پڑھیں : مشال خان پرجھوٹا الزام لگا کرمنصوبہ بندی سے قتل کیا گیا، جے آئی ٹی


رپورٹ میں مشال خان کو اہانت مذہب میں بے گناہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مشال اوراس کے ساتھیوں کے خلاف توہینِ رسالت یا مذہب کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں لیکن مخصوص گروپ نے توہین رسالت کے نام پرلوگوں کو مشال کے قتل کے خلاف اکسایا۔

جے آئی ٹی میں کہا گیا تھا کہ واقعے کے دوران پولیس کے کردارپربھی سوالیہ نشان ہے جس نے بروقت کارروائی نہیں کی اور طالب علم مشال خان کو بچانے کی کوشش نہیں کی اس لیے جےآئی ٹی سفارش کرتی ہےکہ غفلت کے مرتکب افسران اوراہلکاروں کی نشاندہی کی جائے۔

یاد رہے رواں سال 13 اپریل کوعبد الولی خان مردان یونیورسٹی میں 23 سالہ ہونہار طالب علم مشال خان کو اہانت رسالت کا الزام لگا کرمشتعل ہجوم نے بے دردی کے ساتھ قتل کردیا تھا جس کی تحقیقات کے لیے تیرہ رکنی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top