site
stats
پاکستان

مشال قتل کیس: 3 گواہان کے بیانات قلم بند، تعداد 48 ہوگئی

ایبٹ آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال خان قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں مزید 3 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق مردان کی ولی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے مشال خان کو رواں سال 13 اپریل کو طالبِ علموں کے جم غفیر نے یونیورسٹی کمپلیکس میں اہانتِ مذہب کا الزام عائد کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

بعد ازاں واقعے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن) تشکیل دی گئی جس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جواں سال طالب علم مشال خان کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اہانت مذہب کا جھوٹا الزام لگا مشتعل ہجوم کے جذبات کو بھڑکایا اور پھر اُسے قتل کیا گیا، اس سازش میں کچھ یونیورسٹی ملازمین اورسیاسی جماعت کے مقامی عہدیداران بھی شامل تھے۔

جے آئی ٹی میں کہا گیا تھا کہ واقعے کے دوران پولیس کا کردار بھی سوالیہ رہا جس نے بروقت کارروائی نہ کر کے طالب علم کو بچانے کی کوشش نہیں کی ، جےآئی ٹی کی سفارشات میں لکھا گیا تھا کہ غفلت کے مرتکب افسران اوراہلکاروں کی نشاندہی کی جائے۔

مزید پڑھیں: مشال خان کی بہنوں کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل

مشال خان قتل پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جو مشال کے ساتھ ہوا‘ کسی اسلامی ملک میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔

قبل ازیں گزشتہ ماہ اکتوبر میں  انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال خان قتل کے مزید پانچ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جس کے بعد حلفیہ بیان دینے والوں کی تعداد 33 ہوگئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سماعت کے دوران اے ٹی سی کے جج فضل سبحان نے 25 ملزمان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور یہ فیصلہ 20 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

آج بتاریخ 28 نومبر کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال خان قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے مزید 3 گواہان کے بیاناتِ قلم بند کیے، جس کے بعد مجموعی طور پر گواہان کی تعداد 48 تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: مشال قتل کیس ، 57ملزمان پر فرد جرم عائد

گواہان کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ مشال خان کے  والد اقبال خان نے کیس کو ایبٹ آباد منتقل کرنے کی درخواست کی تھی ، جس میں کہا گیا تھا کہ مشال قتل کیس حساس نوعیت کا ہے اور اب بھی دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے کیس کا ٹرائل سینٹرل جیل میں کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ بیٹیوں کو تعلیم جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے لہذا ہمیں اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے مشال قتل کیس مردان سے ہری پور جیل کی انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top