The news is by your side.

Advertisement

مشال قتل کیس، مزید 5 گواہان کے بیانات قلم بند

ایبٹ آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال خان قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں مزید 5 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق مردان کی باچا خان یونیورسٹی میں مشتعل طلباء کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے مشال خان کے قتل کی سماعت ہری پور سینٹرل جیل کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سماعت کے دوران مزید 5 گواہان کے بیانات قلم بند کیے جس کے بعد اب تک مجموعی طور پر 11 گواہان نے اپنے عدالت میں اپنے بیانات جمع کروادیے۔

پڑھیں: مشال قتل میں بااثر افراد ملوث ہیں، سیاسی جماعتیں ساتھ دیں، والد

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشال کے والد نے کہا کہ بیٹے کے قتل کا کیس دنیا اور پاکستان کا سب سے اہم مقدمہ ہے، حساس کیس ہونے کے باوجود حکومت اس معاملے میں ساتھ نہیں دے رہی۔

یاد رہے کہ مشال کے والد نے چند ماہ قبل پریس کانفرنس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بیٹے کے قاتلوں کو کٹھرے تک پہنچانے میں مدد فراہم کریں تاکہ کسی بھی جامعہ کا کوئی بچہ آئندہ بے گناہ نہ مارا جائے۔

مزید پڑھیں: دھمکیاں مل رہی ہیں، مقدمہ مردان سے پشاور منتقل کیا جائے، والد مشال خان

خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں مشتعل ہجوم نے اہانت مذہب کا الزام لگا کر طالب علم مشال خان کو بے دردی سے قتل کردیا تھا جس پر یونیورسٹی ملازمین اور سیاسی جماعت کے مقامی رہنما سمیت درجن بھر سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں