The news is by your side.

Advertisement

خواہشات کا کشکول

جب انسان میّسر و موجود سے بڑھ کر خواہش کرتا ہے اور صبر و شکر، اعتدال اور قناعت کا راستہ ترک کردیتا ہے تو پھر یہ نفسانی خواہشات بہ آسانی اس پر غلبہ پالیتی ہیں اور اس کے لیے نیک و بد میں‌ تمیز کرنا ممکن نہیں‌ رہتا۔ یوں‌ وہ زمین پر فساد برپا کرنے لگتا ہے، ظلم، انصافی، حق تلفی غرض ہر قسم کی برائی میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے۔

پیشِ نظر حکایت ایک عظیم سچ اور آفاقی حقیقت کو ہمارے سامنے لاتی ہے، جس کے دو کردار بادشاہ اور فقیر ہیں جن میں‌ سے ایک کو ہم دولت مند اور بااختیار فرض کرسکتے ہیں اور دوسرے کو خدا کا فرماں‌ بردار اور قانع و شکر گزار کہہ سکتے ہیں۔ اس حکایت کے مختلف حوالے ملتے ہیں جن میں‌ اسے کبھی شیخ سعدی سے منسوب کیا گیا ہے تو کہیں‌ رومی سے۔ اسی طرح‌ یہ قصّہ مختلف صوفیائے کرام اور بزرگوں کے نام بھی پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔

یہ حکایت کچھ اس طرح‌ ہے:

مشہور ہے کہ کسی عظیم سلطنت کے فرماں‌ روا کا سامنا ایک درویش سے ہوا۔ ”بادشاہ نے بصد عجز و نیاز اس سے کہا، مانگو کیا مانگتے ہو؟” اس درویش نے اپنا کشکول آگے کر دیا اور مسکراتے ہوئے بولا۔

”حضور! صرف میرا کشکول بھر دیں۔” بادشاہ نے فوراً اپنے گلے کے ہار اتارے، انگوٹھیاں اتاریں، جیب سے سونے چاندی کی اشرفیاں نکالیں اور درویش کے کشکول میں ڈال دیں، لیکن کشکول بڑا تھا اور مال و متاع کم۔ لہٰذا اس نے فوراً خزانچی کو ہیرے جواہرات کی بوری سمیت طلب کرلیا۔

خزانچی اپنے ملازموں کے ساتھ ہیرے جواہرات کی بوری لے کر حاضر ہوا۔ بادشاہ نے پوری بوری الٹ دی اور حکم دیا کہ جواہرات اس فقیر کے کشکول میں بھر دیے جائیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی لیکن دیکھا کہ کشکول پھیلتا جارہا ہے اور اس کا پیٹ بھر کے ہی نہیں‌ دے رہا۔ یہاں تک کہ تمام جواہرات اس درویش کے کشکول میں‌ چلے گئے۔

سبھی حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ ادھر بادشاہ کو ایک فقیر کے آگے نہ صرف اپنی بے بسی کا احساس ستانے لگا بلکہ اس نے اسے اپنی توہین اور بے عزّتی تصور کیا۔ بادشاہ کے حکم پر جواہرات کی مزید بوریاں لائی گئیں‌ اور کشکول بھرنے کی کوشش کی گئی، لیکن نتیجہ وہی نکلا۔

شاہی خزانہ حتّٰی کہ وزرا کی تجوریاں‌ تک الٹ دی گئیں، لیکن کشکول نہیں‌ بھرا۔ تب بادشاہ نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے درویش سے اس کی حقیقت دریافت کی۔

درویش نے کشکول بادشاہ کے سامنے الٹ دیا اور کچھ کہے بغیر وہاں‌ سے جانے لگا۔ بادشاہ نے یہ دیکھا تو اس کے آگے ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ اپنی اور اس کشکول کی حقیقت اس پر منکشف کی جائے۔

”بادشاہ نے کہا، اے خدا کے مقرّب بندے، مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ یہ کشکول کس چیز کا بنا ہوا ہے؟” درویش مسکرایا اور کہا۔

”اے نادان! یہ خواہشات کا بنا ہوا کشکول ہے، جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں