The news is by your side.

Advertisement

فنِ تعمیر میں منفرد کراچی کی مسجدِ طوبیٰ

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کئی قدیم اور جدید دور میں تعمیر کردہ مساجد فنِ معماری اور خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان میں سے اکثر مساجد تاریخی اہمیت کی حامل اور اسلامی ثقافت کا عمدہ نمونہ ہیں۔

پاکستان میں عروس البلاد کا درجہ رکھنے والے شہرِ قائد کراچی کی طوبٰی مسجد کو لوگ گول مسجد بھی کہتے ہیں۔ یہ کراچی کی منفرد طرزِ تعمیر کی حامل مشہور عبادت گاہ ہے جو ڈیفنس میں کورنگی روڈ سے قریب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجدِ طوبیٰ واحد گنبد کی حامل دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

مسجدِ طوبیٰ کی تعمیر میں خالص سفید سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے گنبد کا قطر 72 میٹر (236 فٹ) ہے اور یہ اس لحاظ سے منفرد اور فنِ معماری کی ایک مثال ہے کہ اس گنبد کو بغیر کسی ستون کے صرف مسجد کے ہال کی دیواروں پر کھڑا کیا گیا ہے۔

اسلامی عبادت گاہوں کے روایتی طرزِ تعمیر میں گنبد کے ساتھ میناروں کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ مسجدِ طوبیٰ میں بھی طویل گنبد کے ساتھ واحد مینار 70 میٹر بلند ہے۔ اس عبادت گاہ کے مرکزی وسیع و عریض ہال میں 5 ہزار نمازی اکٹھے ہوسکتے ہیں۔

اس مسجد کی تعمیر کا کام 1966ء میں شروع کیا گیا تھا جو تین سال جاری رہا اور 1969ء میں مکمل ہوا۔ مسجد طوبیٰ کے پاکستانی ماہر معمار بابر حامد چوہان تھے اور اس کے انجینئر کا نام ظہیر حیدر تھا۔ مسجد کے صحن میں‌ فوّارے موجود ہیں جو بہت خوش نما منظر پیش کرتے ہیں۔

عربی زبان میں طوبیٰ کا معنیٰ خوش گوار، نفیس، نہایت خوش بو دار، پاکیزہ ہیں اور بہشت کے ایک درخت کو بھی طوبیٰ پکارا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق جنّت کا یہ درخت مہکتا ہوا اور پھل دار ہوگا۔ اس نہایت خوب صورت نسبت کے علاوہ یہ عبادت گاہ گول مسجد کے نام بھی معروف ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں