The news is by your side.

Advertisement

زخمی فوجیوں کو ان کا چہرہ لوٹانے والی باکمال خاتون

دنیا کی تاریخ کی ہولناک ترین جنگ، جنگ عظیم اول 1 کروڑ 60 لاکھ افراد کی جانیں لے گئی تھی۔ ان کے علاوہ لاکھوں افراد ایسے بھی تھے جو اس جنگ میں معذور ہوگئے۔

اس جنگ میں 20 ہزار کے قریب افراد ایسے بھی تھے جو گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد اپنے چہرے کی خوبصورتی سے محروم ہوگئے اور ان کا چہرہ بدنما ہوگیا۔

یہ زیادہ تر فوجی تھے جو گولیوں یا گولوں کا نشانہ بننے سے بری طرح زخمی ہوگئے۔ گولیوں کا نشانہ بننے کے بعد ان کا چہرہ بگڑ گیا اور جب جنگ ختم ہوئی تو ان کے پریشان کن چہرے نے انہیں معمول کی زندگی گزارنے سے روک دیا۔

اس وقت پلاسٹک سرجری اس قدر جدید نہیں تھی کہ ان فوجیوں کو ان کا چہرہ کسی حد تک واپس لوٹا سکتی، ایسے میں ایک خاتون اینا کولمین لیڈ نے گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ان فوجیوں کو نئی زندگی دی۔

اینا ایک مجسمہ ساز تھی جس نے ایک فزیشن نے شادی کی تھی۔ جنگ کے دوران جب اسے ان فوجیوں کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے ان کے لیے خصوصی ماسک تیار کرنے کی تجویز پیش کی جو ان کے چہرے کی بدنمائی کو کسی حد تک چھپا دے۔

جنگ کے بعد اینا نے ریڈ کراس کے تعاون سے پیرس میں ایک اسٹوڈیو قائم کیا جہاں اس نے ان فوجیوں کے لیے ماسک بنانا شروع کردیے۔

اینا پہلے فوجی کے چہرے کی مناسبت سے پلاسٹر کا ایک سانچہ سا تیار کرتی تھی، اس کے بعد وہ کاپر سے ایک اور سانچہ بناتی اور مذکورہ فوجی کی پرانی تصاویر کی مدد سے اس سانچے کو اس کے پرانے چہرے جیسا بناتی۔

اس کے بعد اس ماسک پر مذکورہ فوجی کی اسکن ٹون جیسا رنگ کیا جاتا۔ ایک ماسک کی تیاری میں تقریباً 1 ماہ کا وقت لگا۔

اینا کی یہ کاوش ان فوجیوں کے لیے نئی زندگی کی نوید تھی۔ وہ پھر سے جی اٹھے اور ایک بار پھر معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے۔

ایک انٹرویو میں اینا کے معاون نے بتایا کہ ان کے پاس آنے والا ایک فوجی جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کئی عرصے تک اپنے گھر واپس نہیں گیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماں اس کا بدنما چہرہ دیکھے۔

اسی طرح ایک فوجی نے اپنے چہرے کی بحالی کے بعد اینا کو خط لکھا جس میں اس نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے اپنی محبوبہ سے شادی کرلی ہے جو پہلے اس لیے شادی سے انکاری تھی کیونکہ وہ اس کے چہرے سے خوفزدہ تھی۔

کچھ عرصے تک فوجیوں کے لیے ماسک بنانے کے بعد اینا واپس امریکا لوٹ گئی تھی جہاں اس نے مجسمہ سازی کا کام شروع کردیا تاہم فوجیوں کے لیے کیے جانے والے اس کے کام نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں